پیرس، 8 اپریل (یواین آئی) فرانس کے صدر ایمانویل ماکروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دفاعی اجلاس کے آغاز پر ایمانویل ماکروں نے کہا کہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم لبنان میں صورتحال بدستور نازک ہے اور اس معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے، تاہم یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اس اقدام کی حمایت اس شرط پر کرتا ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھول دے اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کے ممالک پر حملے بند کرے۔ یہ پیش رفت امریکہ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کے تحت سامنے آئی ہے، جس میں ایران پر حملے عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیل نے کہا کہ وہ ان امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو ایٹمی، میزائل اور دیگر خطرات سے باز رکھنا ہے۔ ادھر ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہو گیا ہے، جبکہ پاکستان نے اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے۔ دوسری جانب لبنان میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1500 افراد جاں بحق جبکہ 12 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔