بھوپال 8اپریل: وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک ہر شعبے میں ترقی کر رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں زراعت اور زراعت سے وابستہ کاروباروں کو باہمی ہم آہنگی اور احترام کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ خوشحال کسان-خوشحال مدھیہ پردیش” کے موضوع کے ساتھ پورے سال ریاست میں زرعی اُتسو منایا جا رہا ہے۔ زراعت کے ذریعے ہمیں فطرت کے ساتھ جینے کا موقع ملتا ہے۔ ملک میں زراعت کی روایت لاکھوں سال پرانی ہے۔ بھیم بیٹھیکا میں قدیم زمانے سے زراعت کی روایت کے چٹانی نقوش دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہمارے رِشی مُنیوں نے ہزاروں برسوں سے زراعت کے ساتھ جینے کا راستہ دکھایا ہے۔ بھارتی تہذیب میں کھیتی کے لیے احترام کا جذبہ موجود ہے۔ ملک کی زمین اناج کی صورت میں سونا اُگل رہی ہے۔ ملک میں کبھی اناج کا بحران آیا تھا، لیکن آج ہمارے زرعی سائنس دان نئی نئی اقسام تیار کر کے اناج کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کھیتی کو منافع بخش بنانے کے لیے پُرعزم جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ سابق وزیرِ اعظم مرحوم اٹل بہاری واجپئی کے جذبے کے مطابق ” جے کسان، جے جوان” میں “جے وگیان” جوڑا گیا تھا، اور موجودہ دور میں ہم اس میں “جے انوسندھان” بھی جوڑ رہے ہیں۔ ریاست میں ہم کسانوں کو صرف بنیادی سہولتیں فراہم کرنے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، سائنسی کھیتی اور بہتر مارکیٹ لنکیجز کے ذریعے بھی بااختیار بنا رہے ہیں۔ “کرشی منتھن ورکشاپ” کسانوں کے تجربات، سائنس کی جدّت، حکومت کی پالیسیوں اور بازار کی امکانات کو ایک دھاگے میں پرو نے کی مضبوط کوشش ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کے روز جبلپور میں جواہر لال نہرو کرشی یونیورسٹی میں “کرشی منتھن ورکشاپ” سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے چراغ روشن کر کے اور گاؤ ماتا کی پوجا کر کے ورکشاپ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اعلیٰ بیج پراسیسنگ، دواؤں والے پودوں کی اقسام، غذائی پراسیسنگ اور جدید زرعی فصلوں کی نمائش کا معائنہ کیا۔ قبائلی برادری کے فنکاروں نے روایتی رقص اور موسیقی کے آلات کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا استقبال کیا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پروگرام میں 23 کروڑ 21 لاکھ روپے لاگت کے مختلف کاموں کا افتتاح کر کے ترقی کی سوغاتیں دیں۔ ا
ن میں خاص طور پر 13 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے جواہر لال نہرو کرشی یونیورسٹی کے نئے انتظامی عمارت، 1.11 کروڑ روپے لاگت کی بوہانی گنّا تحقیقاتی مرکز کی انتظامی عمارت، 1 کروڑ روپے لاگت سے بالاگھاٹ ضلع کے زرعی کالج واراسیونی کے ہنر ترقی مرکز، اور ساتھ ہی جبلپور میں 1.26 کروڑ روپے سے بنے خودکار مائع حیاتی کھاد پیداوار مرکز کا افتتاح کیا گیا۔ اس کے ساتھ کسان فلاح و زرعی ترقی محکمہ کی 4 کروڑ 92 لاکھ روپے سے تعمیر شدہ 4 اکائیوں کا بھی افتتاح کیا گیا، جن میں ریوا اور شہڈول کے علم و توسیع مراکز شامل ہیں۔

زرعی اسٹارٹ اپس کے ساتھ ساتھ مختلف اسکیموں کے مستفیدین کو فوائد تقسیم کیے

وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ورکشاپ میں حکومتِ ہند کی مالی معاونت سے چلنے والے 10 اسٹارٹ اپس کو 10 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے منظوری احکامات تقسیم کیے۔ اس کے ساتھ ہی کسانی حقوق کے تحفظ کے شعبے میں شاندار کام کے لیے پی پی وی ایچ، ایف آر اتھارٹی نئی دہلی کی طرف سے عطا کردہ سرٹیفکیٹ یونیورسٹی کو پیش کیا۔ انہوں نے “کرشی سکھی تربیتی پروگرام” کا افتتاح کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف محکموں کی جانب سے چلائی جا رہی اسکیموں کے مستفیدین کو بھی فوائد تقسیم کیے۔

وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ زرعی فلاحی سال میں ہمیں اور آگے بڑھنا ہے۔ ریاست میں ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ہمارے محنت کش کسانوں نے ریاست کو دالوں کی پیداوار میں سرفہرست مقام دلایا ہے، یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ اب ہم تیلہن اور اناج سمیت ہر شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ریاست کے کسان تیسری فصل بھی لے رہے ہیں۔ زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے روایتی بیجوں کی جگہ اعلیٰ اقسام کے بیج کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے ہماری زرعی پیداواری صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ ریاستی حکومت مویشی پروری، باغبانی، غذائی پراسیسنگ، جدید آلات سب کو ساتھ جوڑ کر کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست میں قدرتی کھیتی کا رقبہ بڑھا ہے۔ مدھیہ پردیش، ملک میں سب سے زیادہ قدرتی کھیتی کرنے والی ریاست ہے۔ بابا مہاکال کے پرساد میں راگی کے لڈو تیار کیے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت دودھ کی پیداوار کے ذریعے کسان کی آمدنی بڑھا رہی ہے۔ کھیتی اور مویشی پروری ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ اس وقت ریاست میں 9 فیصد دودھ کی پیداوار ہوتی ہے، اسے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ریاست میں دودھ کی کھپت بھی بڑھے گی اور پیداوار بھی بڑھے گی۔ سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کو مفت دودھ کے پیکٹ بانٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت دودھ کی پیداوار سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ریاست میں فوڈ پروسیسنگ یونٹس کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہمارے سائنس دان نئی اقسام کی تیاری میں غذائیت پر خاص زور دے رہے ہیں۔ ریاست میں گیہوں کی پیداوار کا ریکارڈ بنا ہے۔ مدھیہ پردیش نے گیہوں کی پیداوار میں تمام ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ریاست میں گیہوں کی سرکاری خریداری 9 اپریل سے شروع ہو رہی ہے۔ کسانوں کو 2625 روپے فی کوئنٹل کی قیمت دی جا رہی ہے۔ اسے 2700 روپے تک پہنچانے کے لیے ہم پُرعزم ہیں۔ ریاست کے سویابین پیدا کرنے والے کسانوں کو بھی “بھاوانتر یوجنا” کا فائدہ ملا ہے۔ اب سرسوں کی فصل پر بھی “بھاوانتر” کا فائدہ کسانوں کو دیا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم مرحوم اٹل بہاری واجپئی نے “ندی جوڑو ابھیان” کا تصور پیش کیا تھا۔ مدھیہ پردیش ندیوں کا میکہ ہے۔ ماں نرمدا ریاست کے کسانوں کے لیے زندگی کی لکیر ہے، جو مدھیہ پردیش کے ساتھ گجرات اور راجستھان کو بھی پانی دیتی ہے۔ ماں نرمدا کھیتی سے لے کر صنعت کی ضروریات اور ہر گلے کی پیاس بجھاتی ہے۔ مدھیہ پردیش، ملک میں زرعی شعبے میں سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی ریاست بن گیا ہے۔ اس میں ماں نرمدا کی خاص برکت شامل ہے۔