بھوپال:17اپریل:قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہ نے آج موتی مسجد بھوپال میں نمازیوں کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا محترم سامعین کرام جیسا کہ آپ سبھی کو معلوم ہے کہ حکومت یہ ایڈوائزری جاری کی ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک شہری اپنی صحت کے حوالے سے انتہائی احتیاط برتیں اور صبح 10سے سہ پہر 3بجے تک اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں، ان دو ہفتوں کے اندر سادہ لباس پہنیں اور دہی چھاچھ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں ۔ اس ایڈوائزری کی وجہ بحر الکاہل میں بننے والی بھاپ یا کسی غیر متوقع تبدیلی بتائی گئی ہے ۔ محترم سامعین ایڈوائزری کے ذریعے شہریوں کو اپنی صحت کے حوالے سے احتیاط برتنے کا پیغام بلا شبہ قابل تعریف ہے ،اسلام نے بھی احتیاط اور پرہیز کی ترغیب دیتا ہے اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم اس ضمن میں اسلام احتیاطی تدابیر اور دنیاوی اسباب کے استعمال کے ساتھ اللہ کی ذات پر توکل رکھنے کی تعلیم بھی دیتا ہے کہ بندے کے اختیار میں اسباب ہیں جب کہ اللہ کی قدرت میں ان اسباب کو مؤثر بنانا ہے ،بس اسی ذات واحد کی شان ہے کہ وہ آپ کی احتیاط اور تدبیر کو مؤثر و مفید بنائے ۔ تاہم ہماری زندگی میں احتیاط ہمارا معمول ہونا چاہئے ۔ایک گائے کو باندھنے کیلئے رسی اور کھونٹے کا سہارا لینا پڑتا ہے اسی طرح دکان ہو یا مکان اس کی حفاظت کیلئے تالے لگانے پڑتے ہیں اور یہ عمل اکثر مفید ہوتا ہے تاہم کبھی گائے رسی توڑ کر بھاگ بھی جاتی ہے اور چور تالے توڑ کر ہمارے مکان میں موجود اثاثے چرا بھی لئے جاتے ہیں ،اس واردات کے باوجود کوئی اپنے گھروں اور دکانوں کو تالا لگانا نہیں بھولتا کیوں کہ یہی احتیاط ہے ، اس کے بعد سب کچھ اللہ پر چھوڑ دینا یہی توکل ہے۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ ذرا غور تو کیجئے جب ایک سمندر بحرالکاہل کے آبی حالات میں آنے والے تغیر نے خشکی پر بسنے والے انسان کا یہ حال کردیا ہے کہ ایڈوائزری جاری کرنی پڑ گئی اور لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنی صحت کی خاطر 10تا3گھر میں رہیں، سادہ کپڑے پہنیں اور دہی چھاچھ کا بھر پور استعمال کریں تو پھر قرآن کے اس اعلان پر غور کیجئے ۔ قرآن فرماتا ہے واذ البحار فجرت : اور جب تمام سمندر بھاپ بنادیئے جائیں گے۔کوئی تصور کرسکتا ہے کہ ایسی صورت بنی نوع انسان کیلئے قابل برداشت ہوگی؟ ہرگز نہیں۔ دنیاوی آب و ہوا کے غیر معتدل ہونے پر ہی ہمارا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ذرا سوچئے جہنم کی آگ کی شدت کو ،کسی بھی انسان میں اس آگ کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔9ہجری میں غزوہ تبوک پیش آیا ۔فرمان رسول آگیا کہ محاذ جنگ کیلئے روانہ ہونے کی تیاری کرو۔صحابہ کرامؓ نے روانگی کی تیاری شروع کردی مگر ان میں سے چند نے حیلے بہانے شروع کردیئے اور کہا کہ گرمی کا موسم ہے ابھی کھجوریں پک رہی ہیں ،اس کی فصل تیار کرنی ہے ،لہذا غزوہ کا حصہ بننے سے معذور سمجھا جائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان’ معذورین‘ کو اللہ کا قول یاد دلایا کہ ’ قل نار جہنم اشداء‘ جہنم کی آگ اس گرمی سے بہت سخت ہے ۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ دنیا کی گرمی اور آگ سے جہنم کی گرمی اور اس کی آگ لاکھوں گنا شدید ہے ۔کیا ہم غور کررہے ہیں جس دنیاوی گرمی اور تمازت سے بچنے کیلئے درجنوں تدبیریں کی جاتی ہیں حتیٰ کہ حکومت کو ایڈ وائزری تک جاری کرنی پڑی جو بہت اچھی بات ہے تاہم اس جہنم کی گرمی سے بچنے کی تدبیریں ہمیں 14سو سال قبل بتادی گئیں ،کیا ہم ان تدبیروں کو اختیار کرتے ہیں یا اپنے بچوں کو اس کی فکر دلاتے ہیں؟ میرے بھائیو! ایک ایمان والے کیلئے بہت ضروری ہے کہ وہ خود اور اپنے اہل خانہ کی جہنم کی آگ سے حفاظت کیلئے فکرکرے ۔اس کیلئے نوجوانوں کو زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔اللہ کے رسول نے فرمایا کہ قیامت کے دن 7قسم کے لوگ عرش الٰہی میں آرام کررہے ہیں ۔یہاں میں ان 7لوگوں میں شامل نوجوانوں کا ذکر کرتا چلوں ۔ وہ نوجوان جو اپنی جوانی کو اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کے حوالے کردے ۔دنیاکی رنگینیوں اور لا ابالی پن کو محض اللہ کی رضا کیلئے ترک کردے گویا اس نے بڑا جہاد کیا ۔بوڑھے نوجوان کی عبادت اور اطاعت دین کے مرتبے کو نہیں پاسکتے ،کیوں کہ انہیں تو اب اللہ اللہ ہی کرنا ہے ،قابل تعریف ہے وہ نوجوان جو دنیا کی ہر بے ثباتی میں فٹ ہوسکتا ہے اس کے باوجود اس نے اللہ سے اپنا رشتہ جوڑ لیا ، مرتبہ تو اسی کو ملے گا۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اوردنیا کے آتش فشاں حالات سے عبرت حاصل کرکے راہ مستقیم پر چلنے کا حوصلہ دے ۔









