بھوپال، 6 جون: مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا کی تین نشستوں پر ہونے والے انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ان تین میں سے دو نشستوں پر فی الحال بی جے پی اور ایک پر کانگریس قابض ہے۔ بی جے پی نے اپنی دو سیٹوں پر پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چُگ اور رجنیش اگروال کو امیدوار بنایا ہے، لیکن اب خبریں ہیں کہ کانگریس کے قبضے والی تیسری سیٹ پر بھی بی جے پی اپنا امیدوار اتارنے کی اندرونی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بی جے پی کی جانب سے اراکینِ اسمبلی کے دستخط بطور تجویز کنندہ نامزدگی فارم پر کرائے جا رہے ہیں، تاہم پارٹی کے اعلیٰ رہنما ابھی باضابطہ طور پر اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اندور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے ترون چُگ اور پردے کے پیچھے کام کرنے والے محنتی کارکن رجنیش اگروال کو ٹکٹ دیے جانے پر مرکزی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تیسری سیٹ کے حوالے سے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں امیدوار تو جیتیں گے ہی، لیکن اگر پارٹی نے ہمیں اشارہ دیا اور تیسرا امیدوار میدان میں اتارا تو ہم اسے بھی جتوانے کی پوری کوشش کریں گے۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بی جے پی اکثریت کا جادوئی ہندسہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آتی ہے، تو سابق ایم ایل اے جیتو جیراتی کو میدان میں اتارا جا سکتا ہے، جن کے لیے وزیر وجے ورگیہ بھی پوری طاقت لگائیں گے۔ اس کے علاوہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے سابق مرکزی وزیر سریش پچوری کا نام بھی بحث میں ہے۔دوسری طرف، بی جے پی کے راجیہ سبھا امیدوار ترون چُگ بھوپال پہنچے اور انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جا کر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے ملاقات کی۔ ایئرپورٹ پر جب صحافیوں نے ترون چُگ سے تیسری نشست پر امیدوار کھڑا کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے اس سے انکار نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ فیصلہ بی جے پی کی پالیسی ساز کمیٹی کرے گی اور وہ تو صرف پارٹی کے ایک مخلص پیروکار ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں تیز ہیں کہ تیسری سیٹ کے لیے اندر ہی اندر تانے بانے بنے جا رہے ہیں اور دہلی سے ایک بار پھر کوئی چونکانے والا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔









