بھوپال:29؍اکتوبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو ریاست کی صنعتی ترقی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے، خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانے، نیز نوجوانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی سمت میں مسلسل سرگرم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی یہ کوشش بھی ہے کہ فطرت اور ترقی، تعمیر و ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان تال میل کیسے قائم کیا جائے اور ہم اپنی معاشی ترقی کو فطرت کے تحفظ، سماج کی خوشحالی اور مضبوط اداروں کی تشکیل سے کیسے جوڑیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا ماننا ہے کہ ترقی کا مطلب صرف معاشی نمو تک محدود نہیں ہے۔ ترقی کی حقیقی معنویت تبھی ہے جب صنعتوں کی پیش رفت، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کو بہتر مواقع ملنے کے ساتھ ماحول بھی محفوظ رہے اور سماج کے ہر طبقے کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے۔ اسی مقصد سے گزشتہ روز ’’ماحولیات، سماجی ذمہ داری، بہتر حکمرانی اور تہذیبی علم کے امتزاج‘‘ کے موضوع پر غور و خوض کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا ماننا ہے کہ ان پہلوؤں کے امتزاج میں کسی ایک فرد کی ترقی نہیں، بلکہ پورے سماج کی خوشحالی اور سب کے لیے بہتر زندگی کا تصور پوشیدہ ہے۔ ہماری بھارتی علمی روایت صدیوں سے اسی وسیع نقط نظر کا پیغام دیتی آئی ہے۔ بھگود گیتا ہمیں سکھاتی ہے کہ فرض، ?، ضبطِ نفس اور عوامی فلاح ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ جدید انتظام و انصرام اور ادارہ جاتی قیادت کے لیے بھی یہ اقدار اتنی ہی مفید ہیں جتنی ہماری انفرادی زندگی کے لیے۔ ماحولیات ہماری خوشحالی کی قدرتی بنیاد ہے۔ ہماری معیشت کی بنیاد فطرت ہے۔ صنعتوں کو پانی اور توانائی درکار ہے، زراعت کے لیے صحت مند مٹی اور سازگار ماحول ضروری ہے اور ہر شہری کو صاف ہوا اور محفوظ زندگی چاہیے۔ ہم پانی، زمین یا جنگلات پر جو بھی اثر ڈالتے ہیں، بالآخر اس کا اثر ہمارے سماج اور معیشت پر ہی پڑتا ہے۔ ترقی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ماحولیاتی تحفظ کو سب سے زیادہ ترجیح دینی چاہیے۔ آبی تحفظ، توانائی کی کفایت، آلودگی پر قابو پانے اور وسائل کے دوبارہ استعمال کو اپنے کام کاج کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہماری آنے والی خوشحالی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم فطرت کے ساتھ کتنی ذمہ داری سے پیش آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش اس سمت میں مثال پیش کر رہا ہے۔ سانچی ملک کا پہلا شمسی شہر بن چکا ہے اور جنگلاتی رقبے کے معاملے میں بھی ریاست ملک میں پیش پیش ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا ماننا ہے کہ عام شہری کی زندگی میں آنے والی تبدیلی ہی ترقی کا پیمانہ ہے۔ ترقی کا حقیقی مفہوم لوگوں کی زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ نوجوانوں کو مواقع ملیں، خواتین کو تحفظ اور معاشی آزادی حاصل ہو، مزدوروں کو عزت ملے اور محروم خاندانوں تک تعلیم اور صحت کی سہولیات پہنچیں۔ یہی حساس قیادت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ کسی بھی ادارے کی ساکھ صرف اس کے حجم، وسائل یا کامیابیوں سے نہیں بنتی؛ اعتماد اور جواب دہی ہی بہتر حکمرانی کی بنیاد ہیں۔ حکومت ہو یا صنعت، اعتماد ہمیشہ قیادت کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ ماحولیات اور سماج کے تئیں عہد تبھی مؤثر ہوگا جب ادارے شفاف، جواب دہ اور منصفانہ ہوں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو وقت پر خدمات ملیں اور نظام زیادہ شفاف اور جواب دہ بنے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کے مطابق ان تینوں پہلوؤں کو جوڑنے والی اہم ترغیب بھگود گیتا کا کرم یوگ ہے، جو بہترین کام اور عوامی فلاح کی مشترکہ سمت متعین کرتا ہے۔ اپنے کام میں عمدگی، فیصلوں میں اخلاقیات اور کامیابیوں میں عوامی مفاد کا جذبہ ہی آج کی ادارہ جاتی زندگی میں کرم یوگ کا نچوڑ ہے۔ صنعتوں کا مقصد معیار، جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ملازمین، صارفین اور سماج کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھانا ہونا چاہیے۔
حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ عہدے کی ذمہ داری خدمت کے جذبے کے ساتھ ادا کی جائے اور شہریوں کے مسائل حل ہونے تک کوشش جاری رکھی جائے۔ تعلیمی و علمی دنیا کو علم میں دیانت داری برقرار رکھنے، تحقیق کا معیار یقینی بنانے اور نوجوانوں کو صاحبِ بصیرت اور اہل بنانے کے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
سماجی کاموں کو خدمت میں تسلسل برقرار رکھنے، سماج کے وقار کا احترام کرنے اور اسے اپنی ترقی میں شریک بنانے کے جذبے کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ ان جذبات کو قول و فعل اور عمل میں اپنانے سے ہی ایسا بھارت تشکیل پائے گا جہاں معاشی ترقی کے ساتھ سماجی ہم آہنگی مضبوط ہوگی، اداروں پر اعتماد بڑھے گا اور ہم جامع ترقی کی جانب آگے بڑھیں گے۔