رائسین:28؍اکتوبر(پریس ریلیز) ضلع رائسین کے دیہگاؤں تھانہ علاقے کے گاؤں نرور میں مسجد کے پیش امام قاری شیخ صادق کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ مسلسل طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس واقعے کو لے کر مسلم معاشرے میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ جمعیت علماء ہند کے عہدیداران پولیس اور انتظامیہ کے افسران سے رابطہ قائم کرکے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بدھ کے روز جمعیت علماء ہند ضلع رائسین کے صدر حضرت مولانا حامد قاسمی کی قیادت میں مسلم معاشرے کے ایک نمائندہ وفد نے غیرت گنج کے ایس ڈی ایم جناب ہرشل چودھری، بیگم گنج کی ایس ڈی او پی محترمہ سونالی گپتا اور تھانہ انچارج جناب ڈی پی لوہیا سے ملاقات کی۔ وفد نے امام صاحب کے ساتھ پیش آئے واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے تمام ملزمان کی شناخت، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔وفد نے کہا کہ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تمام حقائق کی باریک بینی سے جانچ ہونی چاہیے اور کسی بھی قصوروار کو قانون کے دائرے سے باہر نہیں رہنے دینا چاہیے۔ افسران نے وفد کو یقین دلایا کہ معاملے میں قانون کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے گی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق 26 اکتوبر کی رات گاؤں نرور کی مسجد کے پیش امام قاری شیخ صادق نمازِ عشاء پڑھانے کے لیے جا رہے تھے۔ الزام ہے کہ راستے میں گاؤں کے ہی بعض نوجوانوں نے انہیں روک کر مارپیٹ کی، جس سے ان کے جسم پر چوٹیں آئیں۔ زخمی امام کو پہلے دیہگاؤں اسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے بہتر علاج کے لیے بھوپال کے حمیدیہ اسپتال ریفر کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق علاج کے بعد ان کی طبیعت میں بہتری آئی ہے۔واقعے کے سلسلے میں پولیس نے چار افراد کے خلاف نامزد مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ بعض دیگر افراد کے ملوث ہونے کے پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے، جبکہ دو دیگر ملزمان کے فرار ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
مولانا حامد قاسمی نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا
جمعیت علماء ہند ضلع رائسین کے صدر حضرت مولانا حامد قاسمی نے کہا کہ کسی بھی مذہبی پیشوا کے ساتھ مارپیٹ کرنا انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے واقعے میں ملوث ہر شخص کے خلاف شواہد کی بنیاد پر مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔مولانا قاسمی نے کہا کہ اگر تحقیقات میں اجتماعی حملے یا ماب لنچنگ سے متعلق جرم کے عناصر سامنے آتے ہیں تو متعلقہ قانونی دفعات کے تحت بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔ قصورواروں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے امام ہوں یا مندر کے پجاری، تمام مذہبی پیشواؤں کا احترام اور ان کی حفاظت ضروری ہے۔ کسی بھی مذہبی پیشوا پر حملہ سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیت علماء ہند امن، بھائی چارے، باہمی ہم آہنگی اور انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرتی ہے۔ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مل جل کر رہنا اور ایک دوسرے کے مذہبی عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔ یہی اسلام کی تعلیمات اور جمعیت کا پیغام ہے۔
ریاستی صدر مولانا احمد خان نے ظاہر کی گہری تشویش
گاؤں نرور میں مسجد کے پیش امام قاری شیخ صادق کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے واقعے پر جمعیت علماء ہند مدھیہ پردیش کے صدر اور مفتی اعظم مدھیہ پردیش حضرت مولانا احمد خان بھی گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ ریاست سے باہر سفر پر ہونے کے باوجود مولانا احمد خان نے پولیس اور انتظامیہ کے سینئر افسران سے موبائل فون کے ذریعے رابطہ کرکے معاملے کی معلومات حاصل کیں اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔مولانا احمد خان نے کہا کہ کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اور مذہبی پیشوا کے ساتھ مارپیٹ جیسے واقعے کو سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کی شناخت کرکے شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو ملزمان اب تک فرار ہیں، انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور عدالتی طریقۂ کار کے مطابق آگے کی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات سے ہی معاشرے میں قانون کے تئیں اعتماد مضبوط ہوگا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔
مولانا احمد خان نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ امن و امان، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جائے اور کسی بھی واقعے کو باہمی تعلقات خراب کرنے کا سبب نہ بننے دیا جائے۔غیرت گنج کے ایس ڈی ایم جناب ہرشل چودھری نے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے غیر جانب دارانہ کارروائی کی گئی ہے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ شکایات، دستیاب شواہد اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر آئندہ بھی ضابطے کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔بیگم گنج کی ایس ڈی او پی محترمہ سونالی گپتا نے وفد کو بتایا کہ پولیس نے معاملے میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق، عینی شاہدین کے بیانات اور امام صاحب کی جانب سے ملزمان کی شناخت کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات میں دیگر افراد کی شمولیت سامنے آتی ہے تو ان کے خلاف بھی نامزد ایف آئی آر درج کرنے سمیت ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی شواہد اور قانون کے مطابق ہوگی۔مسلم تہوار کمیٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری جناب مجیب انصاری نے واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں ہندو مسلم اتحاد، باہمی بھائی چارہ اور ہم آہنگی برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی واقعے کو سماجی کشیدگی کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہیے اور امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا تعاون کرنا چاہیے۔ باہمی اعتماد، محبت اور انسانیت کے جذبے سے ہی معاشرے میں امن قائم رکھا جا سکتا ہے۔ قصورواروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن کسی بھی صورت میں باہمی بھائی چارے کو کمزور نہیں پڑنے دینا چاہیے۔
نمائندہ وفد میں یہ افراد رہے موجود
غیرت گنج ایس ڈی ایم دفتر میں ہونے والی ملاقات کے دوران جمعیت علماء ہند ضلع رائے سین کے صدر حضرت مولانا حامد قاسمی، مسلم تہوار کمیٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری جناب مجیب انصاری، جمعیت کے ضلع نائب صدر قاری سید مسعود علی پٹیل، غیرت گنج جمعیت کے صدر جناب حاجی حافظ علی، جناب حافظ عامر، جناب رضوان خان جن پد رکن، گڑھی، مسلم تہوار کمیٹی گڑھی کے صدر جناب خالد منصوری، جناب قاضی شفیق منشی سابق سرپنچ، رانی پورہ، سلوانی، جناب طاہر خان سماجی کارکن اور جناب رضوان خان سماجی کارکن سمیت دیگر افراد موجود رہے۔وفد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل کرکے قصورواروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور فرار ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔
جمعیت علماء ہند نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ امن، صبر، باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھیں اور قانون و انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔








