نئی دہلی 29اکتوبر: اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب سے 30 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عوامی مواخذے اور یکم نومبر کو دہلی میں ریلی منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سلسلے میں آج اپوزیشن کے تمام اہم لیڈران نے ایک میٹنگ کی۔ میٹنگ سے الگ صحافیوں سے بات چیت کے دوران کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کئی اہم مسائل پر اپنی آراء سامنے رکھی۔ کرناٹک میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج سے متعلق پوچھے جانے پر کھڑگے نے کہا کہ ’’ہم اب بھی بیلٹ پیپر (ووٹ پرچی) سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ جیت رہے ہیں، ہمیں میدان نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ پارلیمنٹ میں صرف 2 سیٹیں جیتے تھے۔ کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پارٹی کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔‘‘ کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو یہ تکبر نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو وہ پارلیمنٹ تحلیل کر دے اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرا لے۔
ملکارجن کھڑگے نے ’ووٹ چوری‘ کے خلاف جنگ کو پوری طاقت سے جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج جاری ہے، کیونکہ ’ووٹ چوری‘ ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے الیکشن کمیشن میں جو بے ضابطگیاں کی ہیں، ان کے خلاف ہم یہ احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج آگے بھی جاری رہے گا اور تمام پارٹیاں ہماری حمایت کر رہی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ 30 اکتوبر کو ایک ’فرضی پارلیمنٹ‘ (علامتی پارلیمنٹ) منعقد کی جائے گی اور یکم نومبر کو ہم ایک ریلی کر رہے ہیں، جس میں پورے ملک سے لوگ آ رہے ہیں۔ ہم لڑیں گے، کیونکہ جمہوریت میں جب تک آپ جدوجہد نہیں کرتے، تب تک لوگ بیدار نہیں ہوتے۔ ذرائع کے مطابق ’فرضی پارلیمنٹ‘ کے پروگرام کو پارلیمنٹ کی کارروائی کی طرز پر منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کی طرز پر اراکین پارلیمنٹ اپنی بات رکھیں گے۔ پروگرام میں تقریباً 40 مقررین کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے بھی خطاب کر سکتے ہیں۔ لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار پروگرام کی صدارت کر سکتی ہیں۔