لندن یکم اپریل:برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے صاف لفظوں میں انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے بدھ (یکم اپریل) کو واضح کر دیا کہ برطانیہ کسی بھی حال میں ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ’آبنائے ہرمز‘ کو پھر سے کھولنے کے طریقوں پر ایک عالمی سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کا یہ بیان امریکہ کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہے اور اب تک اسے کسی بھی ناٹو ممالک سے ایران کے خلاف جنگ میں حمایت نہیں ملی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے ناٹو ممالک کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ کیر اسٹارمر نے کہا کہ ’’یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ برطانیہ کے طویل مدتی مفادات کے لیے یورپ کے ساتھ گہرے تعلقات کی ضرورت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ایران جنگ ہمارا نہیں ہے۔ ہماری سیکورٹی کو مضبوط کرنے اور زندگی گزارنے کی لاگت کو کم کرنے کے مواقع اتنے بڑے ہیں کہ انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ برطانوی وزیر اعظم کے مطابق مستقبل قریب میں یورپی یونین کے اتحادیوں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم سے پریس کانفرنس کے دوران ایران جنگ میں شامل ہونے کے متعلق سوال پوچھا گیا تھا۔ اس میں ڈونالڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کا ذکر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اب برطانیہ کی مدد کے لیے آگے نہیں آئے گا۔ اس پر کیر اسٹارمر نے کہا کہ ’’ایران جنگ میں شامل ہونے کے معاملہ میں اپنا موقف تبدیل کرنے کے لیے کافی دباؤ ڈالا گیا ہے، لیکن میں جنگ سے متعلق اپنا موقف نہیں بدلوں گا۔‘
‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’دباؤ خواہ جیسا بھی ہو، شور شرابہ چاہے جتنا بھی ہو، میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے قوامی مفادات کے مطابق ہی کام کرنا ہے۔‘‘