اندور:30؍اکتوبر (جاوید عالم)۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی مدھیہ پردیش اکائی کا صوبائی اجلاس اکتوبر کے آخری ہفتے کے آغاز میں منعقد کیا گیا۔ جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے مختلف زبانوں کے مؤقر ادباء و شعراء نے شرکت کی۔ اس دوران مختلف مقررین نے قومی و بین الاقوامی سطح پر بڑھتی نفرت اور تشدد کے ساتھ عوام الناس کو درپیش مسائل پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے امید جتائی کہ خیر و شر کی اس جنگ میں قلمکار ہی فتحیاب رہیں گے۔ ’امید سے بھر دیں یہ جہان‘ کی تھیم پر منعقدہ اس دو روزہ اجلاس کا پہلا دن دور حاضر کے مسائل پر غور و خوض کے ساتھ مذاکرات کا رہا۔ اس کے تیسرے اجلاس میں ماہر لسانیات، مؤقر نقاد و سماجی کارکن گنیش دیوی کا خطاب دن بھر کا حاصل رہا۔ انہوں نے اپنے فکر انگیز خیالات سے سامعین کو مبہوت کر دیا۔گنیش این دیوی نے ایک ہندی کتاب کے عنوان ’ہڈیوں میں چھپا جور‘ (بخار) سے بات اٹھاتے ہوئے کہا؛ یہی آج کے خطاب کا موضوع ہے۔ گووند پانسرے، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے مصلح، سماجی کارکنان کے بہیمانہ قتل کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا، ’اتنی ہنسا کہاں سے آ رہی ہے؟ 2016 میں یہ طے کیا کہ ایسی ہتیاؤں کا حساب رکھنا ہے۔ 2026 تک 90 سے زیادہ صحافی و ادیب مارے جا چکے ہیں، کیونکہ ان کے پاس سوچ تھی۔ سیاسی کارکنان کے قتل تو سیکڑوں میں ہو گئے ہیں۔ جن کے حقوق مارے گئے ہیں، ان کی تعداد بھی بہت بڑی ہے۔ جن کی شہریت معطل کی گئی، ان کی تعداد یورپ کے کسی ملک کے برابر ہے۔‘ اپنے طویل خطاب کے اختتام پر بات کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا، ہمارا کسی زبان سے بیر نہیں ہے۔ ہم کسی مذہب سے نفرت نہیں کرتے۔ وہ ہنسا کر رہے ہیں۔ ہمیں اس کا جواب ہنسا سے دینا پسند نہیں۔ ترقی پسند مصنفین 21ویں صدی تک محدود نہیں ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ لفظ سے کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔ اس لیے آپ کا ہتھیار لفظ خلق کرنا اور الفاظ سے تخلیقی کام لینا ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں ’امید سے بھر دیں یہ جہان۔‘ خود اعتمادی سے پر ہو کر الفاظ کے تئیں اعتقاد، اپنائیت سے ہم تہذیبی مقابلہ جاری رکھتے ہیں۔ یقیناً ہم ہی فتحیاب ہوں گے۔ انہوں نے بھؤ بھوتی کی مشہور سطر یاد کی۔
’وہ صبح کبھی تو آئے گی:
ان کے اس مؤثر خطاب کے دوران ہال پر مکمل خاموشی طاری تھی۔ صورتحال یہ تھی کہ سوئی گرنے پر بھی آواز آتی۔ امس بھری گرمی کے بیچ لوگوں نے خود ہال کے کولر بند کر دیے، جن کی آواز سننے میں خلل ڈال رہی تھی۔ پسینے کے باوجود سامعین پوری دل جمعی سے گنیش دیوی کی باتیں سنتے رہے۔ اس سے پہلے والی نشست میں مشہور مفکر و ادیب، ممبئی سے آئے جتیندر بھاٹیا نے مختلف موضوعات پر گہرائی سے اپنی بات رکھی۔ ملک کی تقسیم کے زخموں کو کریدتے ہوئے انہوں نے کہا، اس دور میں لوگوں نے بہت تکالیف جھیلیں، لیکن ہر کوئی اڈوانی کی طرح فرقہ پرست نہیں ہو جاتا۔ ڈاکٹر دیس راج کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مثال دی کہ وہ بھی پاکستان سے لٹ پٹ کر آئے، مگر یہاں آ کر مسلمانوں کے علاقے میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔ ان کے مطابق اس ملک کا کردار آڈوانی سے نہیں، دیسراج جیسے لوگوں سے بنتا ہے، جن کی کوئی یادگار قائم نہیں کی گئی۔ جین زی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شمیم جےپوری کا شعر پڑھا
زمانہ اہل خرد سے تو ہو چکا مایوس
عجب نہیں کوئی دیوانہ آج کام کر جائے
دوسرے دن کی پہلی نشست ادیبوں کی تنظیموں کی فکری وابستگی پر تھی۔ اس میں مشہور کوی کمار امبج نے کہا تحریر میں فکر شامل رہتی ہے۔ یہ فکر آپ کو جیسی نظر دیتی ہے، ویسا ہی آپ لکھتے ہیں۔ گویا جیسی نظر ویسی تخلیق۔ جب ہم کسی نظریاتی تنظیم سے جڑتے ہیں تو کچھ چیزوں کو کم سے کم نظریاتی اتفاق کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لکھنے کے لیے مارکسزم ایک فلسفے کی طرح اہم ہے، پر وہ سیاسی پارٹی کے مارکسزم سے الگ ہے۔ اس نشست میں شیلندر شیلی، ہرنام سنگھ، موہن کمار ڈہیریا، راکیش وانکھیڑے، ستیم پانڈے، ساریکا سری واستو نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس نشست کے بعد تنظیم کی تشکیل نو کا عمل شروع ہوا۔ جس میں صوبے کی نئی مجلس عاملہ تشکیل دی گئی۔ چھندواڑا کے سینیئر کوی موہن کمار ڈہیریا صوبائی صدر، بھوپال کے کوی انیل کرمیلے جنرل سیکرٹری منتخب کیے گئے۔ ساتھ ہی حق وانصاف کا مطالبہ کرتی کئی قراردادیں منظور کی گئیں۔
انجمن ترقی پسند مصنفین کے قومی سکریٹری ونیت تواری کی قیادت میں منعقدہ اس ادبی، نظریاتی وتنظیمی جلسے کے دوران مقبول ادیب رنڑیندر، شاعرہ آرتی، افسانہ نگار دنیش بھٹ، اسعد انصاری، نتھ مل شرما، راجیندر شرما، پی ار ملیا، ہری اوم راجوریا، شیلا شنترے، شیکھر ملک وغیرہ نے بھی مختلف نشست میں اظہار خیال کیا۔ چنی لال وادھوانی، پروفیسر ذاکر حسین، ابھے نیما، جاوید عالم، ششی بھوشن، پون کرن وغیرہ نظامت و اظہار تشکر کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔
پہلے دن شام پانچ بجے ادباء وشعراء نے ریلی نکالی۔ جس کے بعد انوپریا دیوتالے نے اپنی خوبصورت وائلین نوازی سے سماں باندھ دیا۔ جلسہ گاہ پر کتابوں کے اسٹال وپوسٹرز کی نمائش بھی لگائی گئی تھی۔