حیدرآباد 25اکتوبر: تلنگانہ حکومت جلد ہی ایرو اسپیس اور دفاعی پالیسی 2.0 متعارف کرانے جا رہی ہے۔ اس کا مقصد دفاعی شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور حیدرآباد کو دفاعی تحقیق کے لیے بہترین مقام کے طور پر فروغ دینا ہے۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے یہ اطلاع دی۔ ہفتہ (24 اکتوبر) کی رات ’رکشا ایکسپو‘ کے کَرٹین ریزر پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ویژن ’رکشا ایکسپو‘ کو ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر ترقی دینا ہے، جہاں دفاعی شعبہ سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز اکٹھے ہوں اور بامعنی بات چیت ہو سکے۔
واضح رہے کہ ’رکشا ایکسپو‘ کا انعقاد ’انویسٹ تلنگانہ گلوبل سمٹ‘ کے تحت 7 سے 9 دسمبر تک حیدرآباد کے ’بھارت فیوچر سٹی‘ میں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ ’رکشا ایکسپو‘ ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جو گلوبل اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم) اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو ایک ساتھ لائے گا۔ حکومت صنعتوں کے نمائندوں، دفاع اور سلامتی کے سینئر افسران، ماہرین اور اسٹارٹ اپس سے اختراعی خیالات اور جدید ترین ٹیکنالوجی لانے کی امید کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال منعقدہ سمٹ کا پہلا ایڈیشن بہت کامیاب رہا۔ ہندوستان میں حیدرآباد کی اہم اور اسٹریٹجک حیثیت ہے۔ ان کے مطابق حیدرآباد غیر معمولی طور پر محفوظ شہر ہے اور یہاں تحقیق کے کئی اہم ادارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی فوج اور ہندوستانی فضائیہ کے کئی اہم اسٹریٹجک مراکز بھی یہیں واقع ہیں۔ اگرچہ تلنگانہ جنوبی ہندوستان کی واحد ایسی ریاست ہے جس کی کوئی ساحلی پٹی نہیں ہے، پھر بھی یہ ہندوستانی بحریہ کو اہم خدمات فراہم کرتی ہے۔ تلنگانہ کے ضلع وکارآباد کے داماگنڈم ریزرو فاریسٹ میں انتہائی کم فریکوئنسی (وی ایل ایف) کا ایک بحری ریڈار اسٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے۔









