چنئی 25اکتوبر: تمل ناڈو حکومت نے اس سال50000 نئے زرعی بجلی کنکشنوں کو منظوری دی ہے۔ اس سے آبپاشی کے لیے بجلی کنکشن کا انتظار کر رہے کسانوں کو راحت ملے گی۔ ساتھ ہی حکومت نے بجلی کی کھپت پر سبسڈی دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ محکمۂ توانائی نے ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں تمل ناڈو پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (ٹی این پی ڈی سی ایل) کو اس پروگرام پر عمل درآمد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ منظوری وزیر توانائی سی ٹی آر نرمل کمار کے ذریعہ اگست میں اسمبلی بجٹ اجلاس کے دوران اس پہل کا اعلان کیے جانے کے بعد بجلی کمپنی کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ منظور شدہ کنکشنوں میں سے 20000 کنکشن ’عام زمرے‘ کے تحت دیے جائیں گے، جن کا پورا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ اس کے علاوہ 3372 کنکشن ’خود مالی اعانت اسکیم‘ کے تحت دیے جائیں گے، جس میں کسانوں کو اپنے منظور شدہ بجلی لوڈ کے لیے درکار رقم خود جمع کرانی ہوگی۔
25282 کنکشن ’فوری فاسٹ ٹریک اسکیم‘ کے تحت مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم میں درخواست دہندگان کو کم وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ باقی 1346 کنکشن مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت دیے جائیں گے۔ حکومت ان اضافی کنکشنوں کے لیے معمول کی بجلی کے استعمال پر سبسڈی فراہم کرے گی، جس پر 127.56 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ کنکشن لگانے کا خرچ ٹی این پی ڈی سی ایل برداشت کرے گا، جس پر تقریباً750 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ ان الاٹمنٹ میں ادائیگی اور درخواست کے مختلف طریقۂ کار کے تحت دیے جانے والے کنکشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کے ذریعے اس سال بجلی کے نیٹ ورک سے جڑنے والے زرعی صارفین کو بھی ریاست کی ’مفت بجلی پالیسی‘ کا فائدہ ملے گا۔ تمل ناڈو حکومت ایک پالیسی کے تحت زرعی صارفین کو مفت بجلی فراہم کرتی ہے، جس کے لیے وہ سرکاری سبسڈی کے ذریعے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی (ڈسکام) کو معاوضہ ادا کرتی ہے۔









