بھوپال:25؍اکتوبر(پریس ریلیز) سینئر شاعر اور مصور ساجد پریمؔی کے دوسرے غزل مجموعے ’کیا کیا جائے‘ کی رسم رونمائی 25 اکتوبر کو شام 4:30 بجے ہندی بھون، پالی ٹیکنک چوراہے کے مہادیوی ورما ہال میں منعقد ہوئی۔ میگھنا شکشن سمیتی اور خوشبو کلچرل سوسائٹی کے مشترکہ زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب کی صدارت سینئر شاعر، ادیب اور صحافی اقبال مسعود نے کی۔ تقریب میں بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی، اردو اکادمی کی ڈائریکٹر اور مشہور شاعرہ ڈاکٹر نصرت مہدی، ساگر کے سینئر شاعر اشوک مزاج بدر اور سینئر شاعر و مدیر ڈاکٹر سیفی سیرونجی مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
اس موقع پر ساجد پریمؔی کے غزل مجموعے ’کیا کیا جائے‘ کے ساتھ ان کے والد، استاد شاعر آنحہانی واحد پریمؔی کے اردو غزل مجموعے ’اپنا جیون کتاب جیسا ہے‘ کی بھی رسم رونمائی کی گئی۔ دونوں کتابوں ’کیا کیا جائے‘ (ساجد پریمؔی) اور ’اپنا جیون کتاب جیسا ہے‘ (واحد پریمؔی، مدیر: ساجد پریمؔی) پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر مہتاب عالم، شاعر شایان قریشی، ڈاکٹر احسان اعظمی اور شاعر سلیم سرمد نے اپنے خیالات پیش کیے۔ تقریب کی نظامت شاعرہ غوثیہ خان سبین نے کی۔
استاد شاعر آنحہانی واحد پریمؔی کی یاد میں منعقدہ ’یادِ واحد پریمؔی‘ پروگرام کے تحت رسم رونمائی اور کتابوں پر گفتگو کے علاوہ مدعو شعرا پر مشتمل مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت سینئر شاعر ظفر سہبائی نے کی، جبکہ نوجوان شاعر سہیل عمرکیا نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
مشاعرے میں سینئر شعرا حمید گوہر (اجین)، بدر واستؔی (بھوپال)، عارف علی عارف (بھوپال)، آدرش دوبے (ساگر)، ڈاکٹر شبنم علی (اجین)، سبھاش پاٹھک ضیا (شیوپوری)، خلیل اسلم قریشی (بھوپال)، مہاویر سنگھ نارائن (بھوپال)، سرور حبیب (بھوپال)، انصاف سیرونجی (سیرونج) اور ایس ایم مبشر سمیت دیگر مدعو شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ آخر میں میگھنا شکشن و سماج کلیان سمیتی کے صدر سید امیر احمد نے تقریب میں شریک تمام ادب نواز حضرات، مصنفین، صحافیوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔