رائسین:25؍اکتوبر(پریس ریلیز) مدھیہ پردیش کے ضلع رائے سین کی تحصیل غیرت گنج کے قصبہ گڑھی میں عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا پرائمری ہیلتھ سینٹر اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اسپتال کا باقاعدہ افتتاح ہونے سے پہلے ہی اس کے احاطے میں لگے گیٹ اور عملے کی رہائش گاہ کے دروازے کی چوکھٹ کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورت حال نے سرکاری املاک کی حفاظت اور اسپتال کو شروع کرنے میں ہو رہی تاخیر پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایک کروڑ 68 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا اسپتال
موصولہ اطلاعات کے مطابق، سال 2021-22 میں قصبہ گڑھی میں پرائمری ہیلتھ سینٹر کی منظوری دی گئی تھی۔ علاقائی رکن اسمبلی اور مدھیہ پردیش حکومت کے سابق وزیر صحت ڈاکٹر پربھو رام چودھری کی کوششوں سے گڑھی سمیت آس پاس کے تقریباً دو درجن دیہات کے لوگوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے چھ بستروں پر مشتمل اسپتال کی تعمیر کرائی گئی۔
اسپتال کی عمارت کے علاوہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی رہائش کے لیے دو رہائشی عمارتیں بھی تعمیر کی گئیں۔ ان تمام تعمیراتی کاموں پر تقریباً ایک کروڑ 68 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق، اسپتال کی تعمیر کا کام سال 2024 میں مکمل ہو گیا تھا اور تعمیراتی ایجنسی کی جانب سے عمارت محکمہ صحت کے حوالے بھی کر دی گئی تھی۔ اس کے باوجود اب تک اسپتال میں باقاعدہ طبی خدمات شروع نہیں ہو سکی ہیں، جس کے باعث علاقے کے عوام اس سہولت سے محروم ہیں۔
اسپتال بند، عمارت کی حفاظت پر بھی سوالات
ایک جانب علاقے کے لوگ اسپتال شروع ہونے کی امید لگائے بیٹھے ہیں، تو دوسری جانب طویل عرصے سے بند پڑی عمارت کی حفاظت کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسپتال کے احاطے میں لگے گیٹ کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ طبی عملے کی رہائش گاہ کی بالائی منزل پر دروازے کی چوکھٹ نکالنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت میں موجود پانی کی ٹنکیوں کو نقصان پہنچانے یا انہیں چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ تاہم، نقصان اور چوری کی کوشش کے حوالے سے سرکاری تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
اگر وقت رہتے عمارت کی حفاظت کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے، تو عوامی رقم سے تیار کی گئی اس اہم سرکاری املاک کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
گڑھی سمیت دو درجن دیہات کے عوام کو مل سکتی ہیں طبی سہولیات
گڑھی میں پرائمری ہیلتھ سینٹر شروع ہونے سے قصبے کے علاوہ آس پاس کے تقریباً دو درجن دیہات کے لوگوں کو ابتدائی طبی علاج کی سہولت میسر آ سکتی ہے۔ فی الحال اسپتال کی عمارت تیار ہونے کے باوجود اس کا استعمال شروع نہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی سطح پر طبی سہولت دستیاب ہونے سے مریضوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ خصوصاً دیہی علاقوں کے بزرگوں، خواتین اور بچوں کو اس اسپتال کے شروع ہونے سے راحت ملنے کی امید ہے۔علاقے کے لوگوں کا سوال ہے کہ جب اسپتال کی عمارت کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور اسے محکمہ صحت کے حوالے بھی کر دیا گیا ہے، تو پھر اسپتال کا باقاعدہ آغاز کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
اسپتال شروع کرنے اور حفاظتی انتظامات کا مطالبہ
مقامی عوامی نمائندوں نے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال کی عمارت اور رہائشی احاطے کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عمارت اور گیٹ کو پہنچنے والے نقصان کی جانچ کرائی جائے اور اگر کسی کی جانب سے توڑ پھوڑ یا چوری کی کوشش ثابت ہوتی ہے تو ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔اس کے ساتھ ہی اسپتال کا باقاعدہ افتتاح کر کے ڈاکٹروں اور ضروری طبی عملے کی تعیناتی یقینی بنائی جائے، تاکہ گڑھی سمیت آس پاس کے دیہات کے لوگوں کو جلد از جلد طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
عوام کو کب ملے گا اسپتال کا فائدہ؟
گڑھی میں ایک کروڑ 68 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا پرائمری ہیلتھ سینٹر آج بھی شروع ہونے کا منتظر ہے۔ ایک طرف علاقے کے عوام بہتر طبی سہولیات کی امید لگائے ہوئے ہیں، تو دوسری جانب عمارت کی حفاظت کا مسئلہ بھی اہم ہوتا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے میں کب تک مؤثر اقدامات کرتی ہے اور گڑھی کے عوام کو اپنے ہی علاقے میں علاج کی سہولت کب میسر آتی ہے۔