بھوپال، 24 اکتوبر:سناتن تہذیب میں انسان کی عظمت کی بنیاد اس کی جسمانی ساخت کے بجائے اس کے اوصاف، اعمال اور خود اعتمادی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ شریمَد بھگوت گیتا میں بھگوان شری کرشن نے پیغام دیا ہے کہ ’’انسان کو اپنے ذریعے اپنا اتھان کرنا چاہیے اور خود کو کبھی مایوسی میں نہیں ڈوبنے دینا چاہیے۔‘‘ ہندوستان کے پیرا کھلاڑیوں کی زندگی اس لازوال پیغام کی جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں چیلنجز رکاوٹ بننے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا موقع بن جاتے ہیں۔ قدرت نے ہر انسان کو یکساں جسمانی صلاحیتیں نہیں دی ہیں۔ کسی کو پیدائشی طور پر جسمانی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو کسی کی زندگی حادثے یا بیماری کی وجہ سے مشکل حالات سے دوچار ہوجاتی ہے۔ لیکن ان حالات کے باوجود جب کوئی شخص اپنے اندر کے حوصلے کو پہچانتا ہے، مسلسل محنت اور مشق کرتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے کا عزم کرتا ہے، تو اس کی کامیابی محض ذاتی کامیابی نہیں رہتی، بلکہ پورے معاشرے اور ملک کے لیے ترغیب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اسی حوصلہ افزا جذبے کو ہندوستانی پیرا کھلاڑیوں نے جاپان کے آئیچی ناگویا میں منعقدہ ایشیائی پیرا گیمز 2026 میں اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے۔ ہندوستان کے پیرا کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 114 تمغے حاصل کیے، جن میں 30 طلائی، 35 نقرئی اور 49 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ اس طرح انہوں نے اب تک کی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمغوں کی فہرست میں ہندوستان کو پہلے 4 ممالک میں جگہ دلانے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ان کھلاڑیوں نے دنیا کو بتایا ہے کہ معذوری کسی انسان کی مکمل شناخت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی صلاحیتوں کی آخری حد متعین کرتی ہے۔ ان کی اصل پہچان ان کی محنت، نظم و ضبط، حوصلہ اور اپنے ملک کے لیے کچھ غیر معمولی کر دکھانے کا عزم ہے۔ یہ کھلاڑی نہ صرف کھیل کے میدان میں اپنے حریفوں کو چیلنج کرتے ہیں، بلکہ معاشرے میں رائج ان تصورات کو بھی چیلنج کرتے ہیں جو کسی شخص کی صلاحیتوں کا اندازہ اس کی جسمانی محدودیت کی بنیاد پر لگاتے ہیں۔ملک کے کامیاب وزیراعظم نریندر مودی نے معذور افراد کے تئیں معاشرے کی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے اور ان کی صلاحیتوں کو نئی شناخت دلانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے ’’وِکلانگ‘‘ کے بجائے ’’دِویانگ‘‘ کا لفظ استعمال کرکے یہ پیغام دیا کہ کسی شخص کی شناخت اس کی جسمانی محدودیت سے نہیں، بلکہ اس کی پوشیدہ صلاحیتوں، قابلیت اور عزم سے ہونی چاہیے۔ یہ اقدام محض لفظ کی تبدیلی نہیں، بلکہ احترام، حساسیت اور شمولیت پر مبنی سوچ کو فروغ دینے کی ایک بامعنی کوشش ہے۔
وزیراعظم نے کھیلوں کو قومی ترقی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے پر خصوصی زور دیا ہے۔ ان کی قیادت میں کھیلو انڈیا اور ٹارگیٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹی او پی ایس) جیسی پہل کے ذریعے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت، تربیت اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری کو فروغ دیا جارہا ہے۔ پیرا کھلاڑیوں کو بھی یکساں مواقع، جدید تربیتی سہولیات، مناسب کھیلوں کے آلات اور ضروری تعاون فراہم کرنا کھیلوں کے نظام کو زیادہ جامع بنانے کی سمت میں اہم قدم ہے۔ حکومت کی کوششوں، کوچز کی رہنمائی، خاندانوں کے تعاون اور کھلاڑیوں کی انتھک محنت کے نتیجے میں ہندوستانی پیرا کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کررہے ہیں۔ایشیائی پیرا گیمز 2026 میں ہندوستان نے 30 طلائی، 35 نقرئی اور 49 کانسی کے تمغوں سمیت مجموعی طور پر 114 تمغے اپنے نام کیے۔ یہ کارکردگی ہندوستانی پیرا کھیلوں میں بڑھتی ہوئی مسابقتی صلاحیت اور کھلاڑیوں کی مسلسل کوششوں کی عکاس ہے۔ اس کامیابی کا سب سے نمایاں پہلو مختلف کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی رہی۔ پیرا ایتھلیٹکس نے ہندوستان کے تمغوں میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا۔ کھلاڑیوں نے دوڑ، جمپ، جیولن تھرو، ڈسکس تھرو اور کلب تھرو جیسے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہیں پیرا شوٹنگ، پیرا تیر اندازی، پیرا بیڈمنٹن، پیرا پاور لفٹنگ اور پیرا جوڈو میں بھی ہندوستانی کھلاڑیوں نے ملک کا نام روشن کیا۔ہندوستان کی تمغے جیتنے کی مہم کا آغاز خواتین کے 10 میٹر ایئر رائفل اسٹینڈنگ ایس ایچ 1 مقابلے میں شاندار کارکردگی کے ساتھ ہوا۔ اس مقابلے میں مونا اگروال نے طلائی تمغہ حاصل کیا، جبکہ اونی لیکھرا نے نقرئی تمغہ اپنے نام کیا۔ ایک ہی مقابلے میں پہلی اور دوسری پوزیشن ہندوستانی کھلاڑیوں کے حاصل کرنے سے ملک کی بیٹیوں کی قابلیت، یکسوئی اور مسابقتی صلاحیت کا ثبوت ملا۔نشانہ بازی ایسا کھیل ہے جس میں یکسوئی، صبر، ذہنی توازن اور تکنیکی مہارت فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ مونا اگروال اور اونی لیکھرا نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا کہ مضبوط عزم اور منظم مشق کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔ مونا اگروال نے اپنی کامیابی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن مقابلے میں بھی طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس طرح انہوں نے اس مقابلے میں 2 طلائی تمغے اپنے نام کیے۔
ان کی یہ کامیابی مستقل مزاجی، خود اعتمادی اور بہترین کارکردگی کی ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ہندوستان کی تاریخی کامیابی میں پیرا ایتھلیٹکس کا سب سے زیادہ تعاون رہا۔ اس کھیل میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 65 تمغے جیتے، جن میں 22 طلائی تمغے شامل تھے۔ یہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستانی پیرا ایتھلیٹکس میں صلاحیتوں، تربیت اور مقابلے کی سطح میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ 2 مرتبہ کے پیرالمپک چیمپئن سمیت انتیل نے مردوں کے جیولن تھرو مقابلے میں اپنا خطاب برقرار رکھتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ ان کی اس کامیابی کے ساتھ مہندر گوجر نے نقرئی اور سندیپ سنجے سرگر نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ اس طرح ہندوستانی کھلاڑیوں نے اس مقابلے کے تینوں تمغے جیت کر تاریخی کلین سویپ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ ایک ہی مقابلے میں تینوں تمغوں پر ہندوستان کا قبضہ کھلاڑیوں کی انفرادی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی پیرا ایتھلیٹکس کی وسیع تر قوت کا ثبوت ہے۔
سمیت انتیل کی مستقل مزاجی، مہندر گوجر کی بہترین کارکردگی اور سندیپ سنجے سرگر کی کامیابی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ترغیب کا ذریعہ ہے۔
وہیں پرنو سورما نے ڈسکس تھرو اور کلب تھرو میں طلائی تمغے جیت کر اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ سمرن نے خواتین کے ٹی 12 زمرے میں 100 میٹر اور 200 میٹر دوڑ میں طلائی تمغے حاصل کیے۔ دلیپ مہادو گاویت نے 100 میٹر اور 400 میٹر کے ٹی 47 مقابلوں میں کامیابی حاصل کی، جبکہ نشاد کمار نے لانگ جمپ اور ہائی جمپ میں طلائی تمغے اپنے نام کیے۔ان کھلاڑیوں کی کامیابیاں بتاتی ہیں کہ پیرا کھیلوں میں بہترین کارکردگی کسی ایک مقابلے یا زمرے تک محدود نہیں ہے۔ ٹریک سے لے کر فیلڈ تک، ہندوستانی کھلاڑیوں نے ہر جگہ اپنی محنت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
ہندوستان کی باصلاحیت پیرا تیر انداز شیتل دیوی نے آئیچی ناگویا میں اپنی کارکردگی سے ملک کا فخر بڑھایا۔ انہوں نے خواتین کے انفرادی کمپاؤنڈ اور مکسڈ کمپاؤنڈ مقابلوں میں طلائی تمغے حاصل کیے۔ وہ اس مقابلے میں ایک سے زیادہ طلائی تمغے جیتنے والے 6 ہندوستانی کھلاڑیوں میں شامل رہیں۔ خواتین کے کمپاؤنڈ ڈبلز مقابلے میں شیتل دیوی اور پائل ناگ نے نقرئی تمغہ حاصل کیا۔ ان کامیابیوں نے ہندوستانی پیرا تیر اندازی کی مسابقتی صلاحیت کو نئی شناخت دی ہے۔
شیتل دیوی کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی کھلاڑی کی اصل طاقت صرف اس کی جسمانی صلاحیت میں نہیں، بلکہ اس کی تکنیک، یکسوئی، مشق اور خود اعتمادی میں بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی کارکردگی سے یہ پیغام دیا کہ مقصد کے تئیں لگن اور مسلسل محنت کے ذریعے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ پائل ناگ کی کامیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ نقرئی تمغہ جیت کر انہوں نے ثابت کیا کہ ہندوستانی پیرا کھیلوں میں نئی صلاحیتیں مسلسل ابھر رہی ہیں اور ملک کا مستقبل باصلاحیت کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔
ایشیائی پیرا گیمز میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے کئی کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ پیرا پاور لفٹنگ میں کستوری راجمانی نے نقرئی تمغہ جیت کر ملک کا وقار بڑھایا۔ پیرا شوٹنگ میں کھلاڑیوں نے نشانے کی درستگی اور ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ پیرا بیڈمنٹن اور پیرا تیر اندازی میں بھی ہندوستانی کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔اس تاریخی مقابلے میں مدھیہ پردیش کے پیرا جوڈو کھلاڑی کپل پرمار نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مردوں کے جے 1، 70 کلوگرام وزن کے زمرے میں کانسی کا تمغہ جیت کر ہندوستان اور مدھیہ پردیش کا نام روشن کیا۔ کپل نے پلے آف مقابلے میں انڈونیشیا کے کھلاڑی کو شکست دے کر یہ کامیابی حاصل کی۔ مدھیہ پردیش میں پیرا کھیلوں کو فروغ دینے، کھلاڑیوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو نئے مواقع دینے کے لیے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔
ایشیائی پیرا گیمز 2026 میں 114 تمغوں کی تاریخی کامیابی ان کھلاڑیوں کے ناقابل تسخیر حوصلے، پختہ عزم اور غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ یہ کامیابی ملک میں پیرا کھیلوں کو مزید فروغ دینے، نئی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے اور ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی دنیا میں نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے تحریک فراہم کرتی ہے۔