پریاگ راج: 16؍ستمبر(پریس ریلیز) پریس ریلیز: گزشتہ دنوں پریاگ راج میں گفتگو کے زیرِ اہتمام ہندی دیوس کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کے مدیر امتیاز غازی نے کہا کہ ہندی ہر ہندوستانی کی زبان بن چکی ہے”۔ ہندی زبان ہر ہندوستانیوں کے لیے فخر کا باعث بن چکی ہے۔ ہندوستان کے علاوہ، ہندی کئی دیگر ممالک میں بھی بولی جارہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ہندی‘ لفظ خود اصل میں فارسی الاصل ہے۔ یہ صرف ’ہندی‘ تک محدود نہیں؛ اس زبان کی وسعتِ ظرفی نے عربی اور فارسی سے ’ہندو، ہندوستان، ہندوستانی، ہندوان، ہندوی، ہندوی، ہندُگی، ہندی داں، ہندی ساز، ہندوان، ہندی ریوند (ایک پودا)، ہندسہ (عدد)، ہندسہ داں (ریاضی داں)، ہندبا (ایک طبی جڑی بوٹی؛ کاسنی)، ہندو کش (پہاڑ) اور ہندوانہ (تربوز)‘ جیسے الفاظ کو اپنا کر ہمارے ذخیرہ الفاظ کو مالا مال کیا ہے۔ آج ہندی ہماری ثقافت میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ہم اس کے بغیر اپنے پڑھنے اور لکھنے کے کام بھی مکمل نہیں کر سکتے۔ ’گفتگو‘ کے صدر ڈاکٹر امتیاز احمد غازی نے پیر کی شام الوپی باغ میں ہندی دیوس کے موقع پر تنظیم کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ’گفتگو‘ میگزین کے تازہ شمارے کی رونمائی بھی کی گئی۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر ویریندر کمار تیواری نے کہا کہ ہندی کا استعمال نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے؛ ایک طرح سے ہندی کا پرچم پوری دنیا میں بلند نظر آتا ہے۔ سنیل دانش نے کہا کہ ہندی ابلاغ و مواصلات کے لیے بھی ایک بہترین زبان ہے، اور یہ کہ ملک کے بیشتر خطوں میں ہندی کے ذریعے لوگوں سے آسانی سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔پروگرام کی نظامت راکیش مالویہ ’مسکان‘ نے کی۔ تقریب کے دوسرے حصے میں شعری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں سنجے سکسینہ، رچنا سکسینہ، شیواجی یادو، مکل متوالا، کملا پرساد گری، ڈاکٹر ویریندر کمار تیواری اور دیگر نے اپنے کلام پیش کیے۔ رسمِ شکریہ کے بعد تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔