بھوپال، 16 ستمبر: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے ریاستی کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ نوجوان آبادی والا ملک ہے، لیکن خستہ حال تعلیمی نظام کے باعث ملک کا ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ (Demographic Dividend – آبادیاتی فائدہ) شدید خطرے میں پڑ چکا ہے۔ مختلف سرکاری اور نیتی آیوگ کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں 10 کروڑ سے زائد نوجوان اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، تقریباً 12 کروڑ بچے اسکولی تعلیم پوری نہیں کر پاتے اور 8.7 کروڑ نوجوان تعلیم، روزگار یا تربیت (NEET) کے زمرے سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی سے بارہویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے 52.8 فیصد بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش میں بارہویں تک بچوں کے پہنچنے کی شرح محض 32.3 فیصد رہ گئی ہے۔
جیتو پٹواری نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں ملک بھر میں 1.02 لاکھ اور مدھیہ پردیش میں 30,650 سرکاری اسکول کم ہوئے ہیں، جبکہ ریاست میں 2,269 اسکول محض ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں اور اساتذہ کی تقریباً 19 فیصد اسامیاں خالی ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کی سرکاری یونیورسٹیوں میں 81 فیصد تدریسی عہدے خالی پڑے ہیں اور پانچ یونیورسٹیوں میں ایک بھی اسسٹنٹ پروفیسر نہیں ہے۔ پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کے ترجمان ابھے دوبے نے بھی حکومت پر تعلیم کو مہنگا کرنے کا الزام لگایا۔ کانگریس قائدین نے مخدوش تعلیمی نظام پر فوری وائٹ پیپر جاری کرنے، اساتذہ کی خالی اسامیاں پُر کرنے اور نوجوانوں کو تعلیم سے روزگار تک واضح روڈ میپ فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔









