نئی دہلی16ستمبر: انڈین یوتھ کانگریس (اے وائی سی) نے آج دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے بہتر، محفوظ اور کفایتی ہاسٹل کی سہولیات فراہم کرنے کے مطالبے کو لے کر مارچ نکالا جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات اور یوتھ کانگریس کے کارکنان موجود تھے۔ مارچ میں خصوصی طور پر ملک کی مختلف ریاستوں سے آنے والے طلبہ کے لیے مناسب ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے کے مطالبے کو نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب نے مارچ میں شرکت کی اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہاسٹل کی کمی، بڑھتے اخراجات، سکیورٹی اور بنیادی سہولیات سے متعلق ان کے مسائل سنے۔ دہلی یونیورسٹی اور اس کے آس پاس طلبہ کے لیے رہائش کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی میں طلبہ کی بڑی تعداد کے مقابلے میں ہاسٹل کی دستیابی بہت کم ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ کو مہنگے نجی مکانات اور پیئنگ گیسٹ (پی جی )میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب نے کہاکہ جو طلبہ دوسری ریاستوں اور ملک کے مختلف حصوں سے دہلی آکر تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، ان کے لیے ہاسٹل کوئی عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ طلبہ کو مہنگے کرایوں، غیر محفوظ رہائش اور ناکافی سہولیات کی فکر کرنے کے بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور دہلی یونیورسٹی انتظامیہ کو صرف اعلانات کرنے کے بجائے اب زمین پر کام کر کے دکھانا چاہیے۔ ہر طالب علم کو محفوظ، سستی اور باعزت رہائش ملنا اس کا حق ہے۔ ہاسٹل کی کمی کا سب سے زیادہ اثر عام اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں سے آنے والے طلبہ پر پڑ رہا ہے، جنہیں اپنی خاندانی آمدنی کا ایک بڑا حصہ نجی رہائش پر خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔