بھوپال:16؍ستمبر:\ گورنر مسٹر منگو بھائی پٹیل نے کہا ہے کہ سکل سیل کی اسکریننگ میں بچوں کی جانچ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری اسکول اور آنگن واڑی مراکز میں کیمپ لگا کر اسکریننگ کا کام کیا جانا چاہیے۔ گورنر مسٹر پٹیل بدھ کو لوک بھون میں قومی سکل سیل خاتمہ 2047 اور قومی ٹی بی خاتمہ پروگرام کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعلیٰ مسٹر راجیندر شکل،وزیر اعلیٰ تعلیم و آیوش مسٹر اندر سنگھ پرمار بھی موجود تھے۔ گورنر نے میٹنگ کے بعد قبائلی امور کے محکمے کے ساتھ دھرتی آبا قبائلی گاؤں اتکرش ابھیان اور پی ایم جن من یوجنا کا جائزہ لیا۔گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ سکل سیل اور ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں میں عوامی نمائندوں کا تعاون حاصل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے محکمہ جاتی افسران سے توقع کی ہے کہ وہ رکنِ پارلیمنٹ، رکنِ اسمبلی سے رابطہ کرکے ان کے علاقے میں سکل اور ٹی بی کے خاتمے کی مہم کے لیے ضروری وسائل کا انتظام اور صحت کیمپوں کے انعقاد میں ضروری مالی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ سکل سیل اور ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں میں بیداری سب سے اہم جزو ہے۔ ضروری ہے کہ بیداری کی کوششوں میں نوجوانوں کو معاون بنایا جائے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں، کالجوں میں طلبہ کے درمیان جانے اور انہیں سکل متر بننے کے لیے ترغیب دینے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی کا مرض 6 ماہ میں مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مریض باقاعدگی سے دوا کا استعمال کرے۔ انہوں نے مریضوں کے دوا کے استعمال کی نگرانی کی ضرورت بھی بتائی۔ گورنر مسٹر پٹیل نے قومی صحت مشن، عوامی صحت اور طبی تعلیم کے محکمے کی اشاعتوں کا افتتاح کیا۔نائب وزیرِ اعلیٰ مسٹر راجیندر شکل نے بتایا کہ ریاست میں کل ایک کروڑ 34 لاکھ افراد کی سکل سیل بیماری کی اسکریننگ ہو چکی ہے۔ ان میں سے 92 فیصد کو جینیٹک کارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ سکل متر پہل کے تحت 4,825 متر بنائے گئے ہیں۔ ان کی تعداد بڑھانے کے لیے کثیر جہتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ٹی بی سے پاک ہونے والے مریضوں کی شرح 89 فیصد ہو گئی ہے۔ شرحِ اموات میں بھی کمی آئی ہے۔آیوش وزیر مسٹر اندر سنگھ پرمار نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے 30 ہزار سے زیادہ سکل سیل کے مریضوں کو گھر گھر جا کر دوا تقسیم کی جا رہی ہے۔ سکل سیل سے متاثرہ افراد سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکل متر بنانے کے لیے کالجوں کے طلبہ، قومی خدمت اسکیم کے ارکان کو ترغیب دینے کے لیے خصوصی کوششیں کی جائیں گی۔ اس کا آغاز سکل سیل سے متاثرہ اضلاع بڑوانی، دھار اور انوپ پور سے کیا جائے گا۔
میٹنگ میں قبائلی سیل کے صدر مسٹر دیپک کھانڈیکر، گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر نوینیت موہن کوٹھاری، آیوش محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر شوبھت جین، عوامی صحت و خاندانی بہبود محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر سکھ ویر سنگھ، گورنر کے نائب سیکریٹری مسٹر سنیل دوبے، سیکریٹری قبائلی سیل مسز میناکشی سنگھ سمیت سیل کے ارکان اور دیگر محکمہ جاتی افسران موجود تھے۔
گورنر نے قبائلی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا
گورنر مسٹر پٹیل نے قبائلی امور کے محکمے کے ساتھ دھرتی آبا قبائلی گاؤں اتکرش ابھیان اور پی ایم جن من یوجنا کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بچے ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ بچوں کی ترقی اور بہبود کے کاموں کو ترجیح دی جائے۔ ان کا معیار بہترین ہو۔ افسران علاقائی دورہ کرکے کاموں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں۔ انہوں نے پی ایم جن من یوجنا کے مختلف اجزا کی معلومات حاصل کیں۔ انہیں مستفیدین پر مبنی اسکیموں کی صد فیصد حصولیابی کی معلومات دی گئی۔ گورنر نے اسکیم کے تحت 9 محکموں کی 11 بنیادی ڈھانچے کی اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور دھرتی آبا قبائلی گاؤں اتکرش ابھیان کے تحت 17 محکموں کی 25 اسکیموں کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی۔
اس موقع پر قبائلی سیل کے صدر مسٹر دیپک کھانڈیکر، گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر نوینیت موہن کوٹھاری، قبائلی امور کے محکمے کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر گلشن بامرہ، گورنر کے نائب سیکریٹری مسٹر سنیل دوبے، سیکریٹری قبائلی سیل مسز میناکشی سنگھ سمیت سیل کے ارکان اور دیگر محکمہ جاتی افسران موجود تھے۔









