پٹنہ، 14 ستمبر: بہار کے پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے پیر کو بہار میں سیلاب کی صورتحال کو لے کر مرکزی اور ریاست کی این ڈی اے حکومت پر جم کر حملہ بولا۔ پٹنہ میں منعقد پریس کانفرنس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سمیت حکمراں جماعت کے لیڈران پر سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق بہار کے 19 سے 22 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں اور تقریباً 1.46 لاکھ ہیکٹر زمین زیر آب ہے۔ تقریباً 56 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں اور کئی علاقوں میں لوگوں کو کھانے، پینے کے پانی، ادویات، پلاسٹک شیٹ اور مویشیوں کے چارے تک کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی گاؤں میں لوگ گزشتہ کئی دنوں سے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور سانپ کے کاٹنے اور کرنٹ لگنے سے بھی لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران پپو یادو نے کہا کہ 2008 میں سیمانچل میں آئے سیلاب کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس لیڈر سونیا گاندھی متاثرہ علاقوں میں پہنچے تھے اور سیلاب کو قومی آفت قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ حکومت نے بہار کے سیلاب کو لے کر اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انتخابات کے وقت بہار میں لیڈران کے لیے سینکڑوں ہیلی کاپٹر نظر آتے ہیں، لیکن جب لاکھوں لوگ سیلاب سے پریشان ہیں تو عوامی نمائندے اور بڑے لیڈران متاثرہ علاقوں میں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بہار کو سیلاب سے پاک کرنے کے پرانے وعدے کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ اب تک اس سمت میں مستقل حل کیوں نہیں نکلا۔
پپو یادو نے سیلاب کے مسئلے کے لیے حکومتوں، افسران اور ٹھیکیداروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے ’مَین میڈ اور لیڈر میڈ ڈیزاسٹر‘ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’فلڈ فائٹنگ اینڈ اینٹی ایروژن‘ کاموں کے نام پر سالوں سے بڑے پیمانے پر رقم خرچ کی گئی، لیکن مسئلے کا مستقل حل نہیں نکلا۔ انہوں نے کیگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کاموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں میں گاد، پشتوں کی حالت اور شہروں میں نکاسی آب کے مسئلے پر طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔









