بھوپال، 14 ستمبر: یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی کوششوں کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ارکان کا ایک اہم مشاورتی اجلاس پیر کے روز دارالحکومت کے خانُو گاؤں کیمپس میں منعقد ہوا، جس میں مدھیہ پردیش سے بورڈ کے پانچوں ارکان نے شرکت اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکنِ عاملہ و کانگریس رکنِ اسمبلی عارف مسعود نے یو سی سی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کی۔ قائدین نے واضح کیا کہ یو سی سی کو لے کر بورڈ کا رخ پہلے دن سے بالکل دو ٹوک ہے کہ مسلم معاشرہ اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کرے گا، اور اس قانون کو ختم کرانے کے لیے آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن جدوجہد کی جائے گی۔ شہر قاضی نے کہا کہ ہندوستان کے آئین نے ہر شہری کو مذہبی آزادی اور اقلیتوں کو بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت دی ہے، لہٰذا یکساں سول کوڈ کے اثرات اور اس کے نقصانات پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
شہر قاضی مشتاق علی ندوی نے آر ایس ایس کے سابق سرسنگھ چالک ایم ایس گولوالکر کے 1972 کے تاریخی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہلی کے دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ قومی یکجہتی کے لیے سول کوڈ کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا کا تعلق خالصتاً اسلامی شریعت سے ہے جس پر صرف مسلم سماج اور اس کے اہلِ علم ہی بات کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو حکومتیں اقلیتوں پر ظلم و ناانصافی کرتی ہیں ان کا سورج ہمیشہ غروب ہو جاتا ہے اور ان کا سفینہ ڈوب جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی یہ بات کسی سے دشمنی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ملک میں امن و امان کی بقا کے لیے ہے۔ خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورت کو ماں، بیٹی، بیوی اور جائیداد میں حصے داری کے مکمل حقوق اور عزت و وقار عطا کیا ہے، لہٰذا اس حساس معاملے پر اسلامی احکامات سے روگردانی نہیں کی جا سکتی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کسی بھی معاملے میں جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے ملک بھر کے ذمہ داروں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ مدھیہ پردیش سے بورڈ سے وابستہ پانچوں ارکان نے تفصیلی غوروخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ 17 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر منعقد ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہرے میں ریاست کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تمام سیکولر اور انصاف پسند شہریوں کو بھی بڑی تعداد میں شرکت کرنی چاہیے۔ انہوں نے قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے اعلان کیا کہ پرسنل لا بورڈ کی قانونی ٹیم پوری طرح تیار ہے اور عرضی (پٹیشن) کا مسودہ بھی مرتب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام اور وکلاء سے پرزور اپیل کی کہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر جلد بازی میں عدالت کا رخ نہ کرے تاکہ قانونی محاذ کو نقصان نہ پہنچے۔ عارف مسعود نے کہا کہ اس معاملے کو محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اور بنیادی حقوق کی بقا کی لڑائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پوری قوت کے ساتھ دستوری لڑائی لڑی جائے گی۔
اس موقع پر مولانامسیح عالم قاسمی، مولانا محمدمعاذ خان نعمانی ندوی، مولاناڈاکٹرعرفان عالم قاسمی کے علاوہ کئی علمائے کرام موجودتھے۔









