نئی دہلی، 14 ستمبر: دہلی فسادات سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے کڑکڑڈوما کورٹ نے بھجن پورہ پٹرول پمپ تشدد کیس میں مزید 5 ملزمان کو پولیس پر حملہ اور پتھراؤ کرنے کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا ہے، جس کے ساتھ ہی فسادات سے جڑے مختلف معاملات میں مجرم قرار پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے عارف، محمد خالد، عبد الستار، تنویر علی اور حنین کے خلاف یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے مانا کہ ملزمان نے ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر اس قدر شدید پتھراؤ کیا تھا کہ انہیں جان بچانے کے لیے پٹرول پمپ کی دیوار پھلانگنی پڑی، تاہم عدالت نے پٹرول پمپ کو نذرِ آتش کرنے کے الزام سے تمام پانچوں ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ ملزمان کے خلاف تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات بشمول 147، 152، 186 اور 353 کے تحت جرائم ثابت ہوئے ہیں، جن کی سزا کا اعلان عدالت بعد میں کرے گی۔
عدالت کے مطابق یہ واقعہ 24 فروری 2020 کو یمنا وہار سروس روڈ پر واقع پٹرول پمپ کے پاس پیش آیا تھا، جہاں چاند باغ کی سمت سے روڈ ڈیوائیڈر توڑ کر 100 سے 150 افراد پر مشتمل مشتعل ہجوم داخل ہوا تھا اور اس نے توڑ پھوڑ کے ساتھ پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران 53 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن کے متعدد مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔









