بھوپال:11ستمبر:آج قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق وعلی ندوی مدظلہٗ نے نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں ’والدین پر اولادوں کے حقوق‘ کو موضوع سخن بناتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی اور ہماری رہبری کیلئے سید الانبیاءﷺ کو مبعوث فرمایا ۔آپ ﷺ نے اپنی امت کوہر اس چیز کی تعلیم دی جس کی ضرورت پیدائش سے وفات تک ہوتی ہے ۔انسانی زندگی کا ایسا کوئی گوشہ باقی نہ رہا جو تعلیمات نبوی سے تشنہ رہ گیا ہو۔اب یہ ہم آپ پر فرض ہے کہ ہم تعلیمات نبوی کی روشنی میں اپنی دنیا بھی بہتر بنائیں اور دین بھی ۔اسلام کا طرہ ٔ امتیازدیکھئے کہ اس نے اعلیٰ ،ادنیٰ میں کوئی تفریق نہیں کی ۔پوری شریعت مطہرہ میں آپ کو ایسی کوئی تعلیم نہیں ملے گی جس میں طاقتوروں کی کوئی رعایت کی گئی ہو اور کمزوروں کی گرفت کی گئی ہو۔سب کیلئے مساوی احکام و ہدایات ہیں ۔اگر اولادوں پر والدین کے حقوق فرضج قرار دیئے گئے ہیں تو اسلام نے والدین کو بھی اتنا ہی پابند بنایا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کے حقوق ادا کرے ۔ جہاں والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو بیان کیا گیا وہیں اولاد کے حقوق بھی بیان کئے گئے ہیں۔ اسلام کی خاندانی اور معاشرتی زندگی یک طرفہ نہیں بلکہ ہمہ گیر ہے۔ اس لئے والدین اگر اسلامی معاشرے میں بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں تو وہیں اولاداس اکائی کا نتیجہ ہے۔ ایک لحاظ سے تو اولاد اور بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ وہ خاندان اور معاشرے کا ارتقاء اور اس کی زندگی کا عکس ہے کہ آج کی اولاد کل کے والدین ہوتے ہیں۔ اگر ان کے اخلاقی حقوق کو پامال کیا گیا تو اس سے نہ صرف معاشرے کا ارتقائی مزاج مجروح ہو گا بلکہ مستقبل کے والدین بھی خطرناک حد تک اولاد کش ثابت ہوں گے خاندان اور معاشر ے میں چھوٹے بڑے کی تمیز سب سے بڑی چیز ہے اور اس لحاظ سے اولاد کے حقوق کی ضرورت واہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اولاد کا کسی کے ہاں ہونا اللہ کے بہت بڑے احسان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ بھی ہے جوقسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ یہ ایسی نعمت ہے جو نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے چوری کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب یہ نعمت عظیم کسی کو دینے سے انکار کردے تو کوئی اللہ عزوجل سے زبردستی نہیں لے سکتا۔ جس چیز کو قرآن و سنت نعمت کہہ دیں وہ عام نعمت نہیں ہوتی کہ ا للہ تعالیٰ عام نعمت کا احساس نہیں جتلاتے اور جس نعمت کا اللہ تعالیٰ اعلان کر دے تو وہ بلند و بالا مرتبہ کی حامل ہوتی ہے۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ اولاد چونکہ انسان کی فطرت اور اس کی شخصیت کا بہترین مظہر اور اس کے ذاتی سکون کا سب سے بڑاسامان ہے ، اس لئے انسان جبلی طورپر اولاد کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے مشن اور مقصد کی تکمیل میں اولاد کو ہمدرد وغم خوار پاتا ہے۔ اولاد کی مناسب نشوونما کیلئے تربیت و پرورش کی مناسب تدبیر والدین کا فرض ہے۔ انہیں پاکیزہ اخلاق کا خوگر بنایا جائے اور ایسے آداب کی تعلیم دی جائے جو شرفاء اور سرداروں کے لئے مناسب ہیں۔ کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے اور بزرگوں کے سامنے گفتگو کے آداب و اخلاق سے ان کو آگاہ کریں۔
اسلام نے انسانی زندگی کیلئے ایک معتدل فکر و عمل کا نظام دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں جہاں والدین کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی نافرمانی سے سختی سے روکا گیا ہے اور ان سے نیک سلوک کرنے کی تاکید کی گئی ہے وہیں اولاد کے حقوق کو بھی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور ان کی ادائیگی کی تاکید کی گئی ہے۔ اسلام کی سماجی زندگی یک رخی نہیں بلکہ ہمہ گیر ہے۔ والدین اگر اسلامی معاشرے کی بنیادی اکائی ہیں تو اولاد اس اکائی کا نتیجہ ہے۔ یہ دونوں مل کر معاشرے کی تصویر بناتے ہیں۔ آج کے بچے کل کے والدین اور بزرگ ہوں گے ، اس لئے اسلام بچوں کے بارے میں خصوصی ہدایات دیتا ہے۔ اسلام جہاں بچوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ بڑوں کا ادب ، احترام اور فرمانبرداری کریں وہیں بڑوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ چھوٹوں کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آئیں اور ان کیلئے ایثار اور قربانی سے کام لیں۔ مگر بدقسمتی سے آج اسلام کے اس رہنما اصول کو مسلمانوں نے ترک کردیا ہے ۔آج کے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اولادوں پر ان کے ہی حقوق ہیں ، میرے محترم بزرگو اور دوستو! ایسا ہرگز نہیں ہے ۔آپ کو اپنی اولادوں سے حقوق وصول کرنے کیلئے انہیں اس لائق بنانا ہوگا ،یہ آپ کی ذمہ داری ہے اور یاد رکھئے یہ ذمہ داری پہلے آپ سے شروع ہوتی ہے ۔اگر آپ نے اپنی ڈیوٹی صحیح نہیں کی تو پھر آپ کو مزدوری کی امید نہیں رکھنی چاہئے ۔آج بہت سے والدین مجھ سے مل کر اپنی اولادوں کی شکایت کرتے ہیں کہ ہم اپنی اولادوں سے تنگ آچکے ہیں بہتر ہوتا کہ مجھے ایسی اولاد ہوتی ہی نہیں اور اگر ہوئی تو پہلے دن ہی اسے مر جانا چاہئے تھا ۔ذرا سوچئے تو سہی کیا آپ نے اپنی اولادوں کی اس انداز میں تربیت کی جس انداز سے تربیت کی تعلیم اسلام نے دی ہے ،اگر نہیں تو پھر’ جیسے کو تیسا‘ کے مصداق ہی زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھاتے رہئے ،شکوہ بے معنیٰ ہے ۔آج اس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اپنی اولادوں کی پروش و نگہداشت اس طریقے پر کریں جو طریقہ ہمیں معلم کائناتﷺ نے سکھایا ہے۔آج کی دوڑ بھاگ والی زندگی میں والد بچوں کو وقت نہیں دیتے ۔صبح جن بیدار ہوتے ہیں تو بچہ اسکول جاچکا ہوتا ہے اور جب باپ دنیاوی مصروفیات سے فارغ ہوکر گھر لوٹتا ہے تو بچہ سو چکا ہوتا ہے۔ہفتہ گزرجاتا ہے باپ بیٹے بیٹیوں میں ملاقات نہیں ہوتی۔اولادوں سے باپ کو جو قربت ہونی چاہئے وہ نہیں ہوپاتی ۔میں تو ایسے والدین سے کہتا ہوں کہ آپ ہر حال میں رات کا کھانا اپنے بچوں کے ساتھ کھائیں تاکہ ان کے حال سے آپ کو آگہی ہو اور آپ اس کے مطابق اپنے بچوں کیلئے فکر کریں۔دنیا ضرور کمائیں مگر اولاد جیسی نعمت کو بھول کر نہیں ورنہ اللہ کے یہاں آپ کی گرفت یقینی ہے ۔خالق کائنات دنیا کے ہر والدین کو اپنے بچوں کی اسلامی نہج پر تربیت کرنے توفیق بخشے ۔









