بھوپال، 30 اگست: دارالحکومت کے بدھوارہ (چار بتی) چوراہے پر اتوار کے روز منعقدہ ’جنگِ آزادی میں علمائے کرام کی قربانی‘ کے اختتامی پروگرام میں کانگریس رہنما امنگ سنگھار نے مرکز اور ریاستی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے اکثریت کے بل بوتے پر یہ ’’کالا‘‘ یو سی سی قانون پاس کرایا ہے، لیکن جب کانگریس کی حکومت آئے گی تو اسے ختم کیا جائے گا۔ پروگرام کا انعقاد کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے کیا تھا۔
پردیش کانگریس صدر جیتو پٹواری نے بھی یو سی سی کو نفرت پر مبنی قانون قرار دیا اور کہا کہ ایسے قوانین سماج کو تقسیم کرتے ہیں۔ پٹواری نے رکن اسمبلی عارف مسعود کی مہم کی ستائش کرتے ہوئے کہا، ’’نفرت کے اس دور میں عارف مسعود نے آزادی کا پکھواڑا منا کر راہل گاندھی کی ’محبت کی دکان‘ کھول دی ہے۔‘‘ پروگرام میں اسکولی بچوں نے تحریکِ آزادی میں علمائے کرام کی قربانی پر تقاریر کیں اور پوزیشن حاصل کرنے والوں کو نقد انعامات سے نوازا گیا۔
منتظم عارف مسعود نے الزام لگایا کہ مودی حکومت تحریکِ آزادی میں مسلم شہداء کا ذکر نظر انداز کر رہی ہے اور یو سی سی میں مسلم طبقے کے ساتھ تفریق برتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پکھواڑے کا مقصد بچوں میں ان مسلم مذہبی تحریکوں اور شہادت کے جذبے سے متعلق بیداری لانا تھا، جن کا کردار تاریخ سے مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ کانگریس اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیتی رہی ہے اور ایسے ’تقسیم کرنے والے‘ قوانین کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ پروگرام میں معروف شاعر منظر بھوپالی نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ یہ پکھواڑا بھوپال میں 15 سال سے منایا جا رہا ہے اور اس بار بھی مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے اس میں حصہ لیا۔