بھوپال، 30 اگست: مدھیہ پردیش کے کئی اضلاع میں مسلسل اور شدید بارش کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ندی نالے طغیانی پر ہیں اور نشیبی بستیاں زیر آب آ گئی ہیں۔ چترکوٹ میں منداکنی ندی تقریباً 30 فٹ کی بلندی پر بہہ رہی ہے جبکہ گورگی ڈیم ٹوٹنے سے رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پانی داخل ہو گیا اور رام گھاٹ کا ایک بڑا پختہ پل تیز بہاؤ کی نذر ہو گیا۔ ستنا-چترکوٹ روڈ پر پنڈرا کے قریب پل اور سڑک 4 مقامات سے بہہ جانے کے باعث بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ بارش کے قہر کے پیشِ نظر ضلع ستنا میں یکم ستمبر سے 31 اگست تک اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ضلع شہڈول میں واقع بان ساگر ڈیم میں پانی کی غیر معمولی آمد کے باعث ڈیم کی آبی سطح گزشتہ سال کے مقابلے 13 سینٹی میٹر زیادہ ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد دوپہر 12 بجے ڈیم کے 6 گیٹ کھول دیے گئے۔ پانی کے اخراج کے نتیجے میں سوکھاڑ ندی میں مچھلی پکڑنے گئے 6 افراد تیز بہاؤ میں پھنس گئے تھے، جنہیں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ہوم گارڈز کی ٹیم نے گھنٹوں کی مشقت کے بعد بحفاظت نکال لیا۔ اسی طرح سنگرولی کے برگواں تھانہ علاقے کے اوڑڑگڑی گاؤں میں سیلاب میں گھرے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کو ایس ڈی آر ایف کی ٹیم نے ریسکیو کیا۔ موسمیات نے مئوگنج، سیدھی، سنگرولی، امریا، شہڈول، ڈنڈوری، انوپ پور، منڈلا، سیونی اور بالاگھاٹ میں شدید بارش کی پیشین گوئی جاری کی ہے، جبکہ پنا، چھترپور اور ٹیکم گڑھ میں طغیانی کے بعد اب پانی بتدریج اترنے لگا ہے۔









