رانچی7اگست: جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کی بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی قومی صدر نیہا بورا پر جمعہ کو ایک شخص نے سیاہی پھینک دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے ملاقات اور اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچی تھیں۔ پولیس نے سیاہی پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ریاست میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی – سی جی ایل امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ کا احتجاج مسلسل چودھویں روز بھی جاری ہے۔ احتجاج کے دوران چھ طلبہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں، جبکہ دو طلبہ تنظیموں نے جھارکھنڈ اسمبلی کے جاری مانسون اجلاس کے دوران اسمبلی تک مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ واقعے کے بعد نیہا بورا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو لوگ خود کو طلبہ کا حامی بتاتے ہیں، وہی احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ سیاہی پھینک کر ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔