بھوپال 7اگست: وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے “وزیرِ اعلیٰ جن وشواس ابھیان” کا آغاز کرتے ہوئے چھندواڑہ ضلع کلکٹریٹ میں عوام کے مسائل سنے۔ انہوں نے سی ایم ہیلپ لائن پورٹل پر زیر التوا شکایات کا درخواست گزاروں کی موجودگی میں ایک ایک کرکے جائزہ لیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں کا فائدہ مقررہ وقت پر مستحق افراد تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس میں کسی بھی سطح پر لاپروائی، بے حسی یا غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ جائزے کے دوران جن معاملات میں افسران اور ملازمین کی لاپروائی سامنے آئی، ان پر انہوں نے فوری طور پر سخت کارروائی کے احکامات دیے۔ ساتھ ہی مستحق افراد کو جلد راحت فراہم کرتے ہوئے اسکیموں کا فائدہ یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جمعہ کے روز چھندواڑہ کلکٹریٹ کے پروگرام میں ضلع کی متاثر کن صلاحیتوں کے حامل افراد سے گرمجوشی سے گفتگو کی۔ زراعت، اختراع، کھیل، خواتین کو بااختیار بنانے، دیہی سیاحت، صنعت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے شرکا نے اپنی کامیابی کی کہانیاں وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ شیئر کیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے ان کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صلاحیتیں مدھیہ پردیش کی ترقی کی حقیقی طاقت ہیں اور معاشرے کے لیے تحریک کا ذریعہ بھی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اجلاس میں محکمہ وار جائزہ لیتے ہوئے مختلف عوامی فلاحی اسکیموں کی پیش رفت اور سی ایم ہیلپ لائن شکایات کے ازالے کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ریونیو، نل جل، توانائی، پولیس سمیت تمام محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ عام شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے شکایت کرنے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔ ہر معاملے کا مقررہ وقت کے اندر شفاف، حساس اور جواب دہ طریقے سے حل یقینی بنایا جائے۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اسکول چھوڑنے والے بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں داخلہ دلانے، تمام اساتذہ کی سو فیصد ای حاضری یقینی بنانے اور سائبر جرائم کی روک تھام و متاثرین کو فوری راحت فراہم کرنے کے لیے مؤثر کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کا وقت پر اور معیاری حل ہی بہتر حکمرانی کی سب سے بڑی پہچان ہے اور ہر افسر کو عوامی خدمت کے تئیں حساس اور جواب دہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کو وزیرِ اعلیٰ جن وشواس ابھیان کے دوران مینا بنجارہ نے وزیرِ اعظم کسان سمان ندھی اسکیم کا فائدہ نہ ملنے کی شکایت درج کرائی۔ جائزے میں معلوم ہوا کہ پاراسیا تحصیل کے متعلقہ پٹواری کی جانب سے غلط رپورٹ پیش کیے جانے کے سبب درخواست گزار اسکیم کے فائدے سے محروم رہی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے پاراسیا تحصیل کے متعلقہ پٹواری اور تحصیلدار کو معطل کرنے کے احکامات دیے۔ ساتھ ہی وزیرِ اعلیٰ اقتصادی امداد کے ذریعے درخواست گزار کو ایک سال کی امدادی رقم فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔