لکھنو6اگست:اتر پردیش کے مدارس میں اب کامل اور فاضل کی ڈگری نہیں ملے گی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں گزشتہ منگل کو ہوئی کابینہ میٹنگ کے دوران ’مدرسہ ایجوکیشن کونسل ایکٹ 2004‘ میں ترمیم کو منظوری دے دی گئی۔ اس قدم کے بعد کامل (گریجویشن کے مساوی) اور فاضل (پوسٹ گریجویشن کے مساوی) کا کورس مدارس میں نہیں ہو پائے گا۔ یعنی مدارس کے بچوں کو اگر عصری طریقۂ تعلیم والے اداروں میں داخلہ لینا ہے تو عالم کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہی پیش رفت کرنی ہوگی۔ دراصل 2022 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مدرسہ بورڈ کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ لیکن نومبر 2024 میں سپریم کورٹ نے بورڈ کے آئینی جواز کو برقرار رکھا اور کہا کہ مدرسہ بورڈ اعلیٰ تعلیم کی ڈگری نہیں دے سکتا۔ یوگی حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے تازہ قدم کی وجہ سپریم کورٹ کا وہی فیصلہ ہے۔ اس سلسلے میں اقلیتی امور کے ریاستی وزیر دانش انصاری نے واضح بھی کیا کہ عدالتی حکم کے بعد سے نئے سیشن میں کامل و فاضل کے کورسز میں داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ اب ایکٹ میں ترمیم کر یہ کورس باضابطہ طور پر ہٹا دیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جن کے داخلے کامل یا فاضل ڈگری کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے حکم سے پہلے ہوئے تھے، ان کی ڈگری کے جواز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس ڈگری کی بنیاد پر ملازمت حاصل کر چکے لوگ بھی اثر انداز نہیں ہوں گے۔









