نئی دہلی 6اگست: سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے پر سماعت کی، اور اہم ملزم آشیش مشرا کی ضمانت کی شرطوں میں مزید سہولت دینے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے مشرا کی اُس عرضی کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے ضمانت کی شرطوں میں مزید راحت دینے کی اپیل کی تھی۔ آشیش مشرا کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ ضمانتی شرطوں کی وجہ سے وہ اپنے کنبے میں ہونے والی تقاریب میں بھی شامل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی یوم پیدائش جیسی گھریلو تقاریب میں بھی شامل ہونے سے قاصر رہتے ہیں۔ انہی وجوہات کے سبب ضمانت کی شرطوں میں مزید راحت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’فی الحال اس اپیل پر غور کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے، اس لیے درخواست کو خارج کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے آشیش مشرا کی درخواست کو رد کر دیا۔ قابل ذکر ہے کہ لکھیم پور کھیری واقعہ 3 اکتوبر 2021 میں پیش آیا تھا، جب کسان نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے دورے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران تشدد بھڑک اٹھا اور توجہ کا مرکز بن گیا۔
اس تشدد اور تشدد کے بعد پیدا حالات میں 8 افراد کی موت ہوئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق 4 کسانوں کو اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (ایس یو وی) نے کچل دیا تھا۔ اس کے بعد تشدد میں کار ڈرائیور، بی جے پی کے 2 کارکن اور ایک صحافی کی بھی موت ہو گئی تھی۔ آشیش مشرا اس معاملے کے کلیدی ملزمین میں شامل ہیں اور ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ اس معاملے میں انہیں پہلے ضمانت ملی تھی، لیکن اب شرطوں میں مزید راحت دینے کی اپیل کو سپریم کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔