نئی دہلی 2اگست: ہندوستان میں اس بار مانسون کا مزاج مسلسل حیران کر رہا ہے۔ مغرب میں گجرات، شمال مشرق میں آسام اور جنوب میں کیرالہ تک شدید بارش نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی ریاستوں میں ندیاں طغیانی پر ہیں، سڑکیں اور پل زیرِ آب آ گئے ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ آسام میں اب تک 82 افراد کی موت ہو چکی ہے، تقریباً 2 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ جبکہ کیرالہ میں بھی 8 افراد کی موت ہو چکی ہے اور ہزاروں لوگ متاثر ہیں۔ گجرات میں تقریباً 40 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب ال نینو (El Nino) کی صورتحال موجود ہے، تو آخر اتنی موسلا دھار بارش کیوں ہو رہی ہے؟
ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندر کی سطح کے معمول سے زیادہ گرم ہو جانے کی صورتحال ہے۔ اس سے دنیا کے کئی ممالک کے موسمی چکر میں تبدیلی آتی ہے۔ ہندوستان میں عام طور پر ال نینو کا تعلق کمزور جنوب مغربی مانسون اور کم بارش سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم یہ ہر بار ایک جیسا اثر نہیں دکھاتا۔ ماہرین کے مطابق ال نینو مانسون کو متاثر کرنے والا ایک اہم عنصر ہے، لیکن صرف یہی یہ طے نہیں کرتا کہ پورے ملک میں کتنی بارش ہوگی۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس کا جواب صرف ال نینو میں نہیں، بلکہ کئی عالمی اور علاقائی موسمی اثرات میں بھی پوشیدہ ہے۔ اس بار خلیجِ بنگال اور بحیرۂ عرب دونوں میں بار بار لو پریشر ایریا (Low Pressure Area) بن رہے ہیں۔ یہ سمندر سے بھاری مقدار میں نمی لے کر ملک کے اندر پہنچ رہے ہیں۔ جب یہ مانسونی ٹرف کے ساتھ ملتے ہیں تو کئی ریاستوں میں مسلسل شدید بارش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت مانسونی ٹرف بھی طویل عرصے تک فعال بنا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی علاقے میں کئی دنوں تک مسلسل بارش ہو رہی ہے، جس سے سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔









