رائسین:28؍جولائی:(پریس ریلیز) ضلع رائے سین کی تحصیل غیرت گنج کے تحت آنے والی گرام پنچایت گڑھی میں اسمارٹ بجلی میٹروں کے خلاف عوامی ناراضگی اب باقاعدہ عوامی تحریک کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پیر کے روز گاؤں کے بجلی صارفین، عوامی نمائندوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران نے مدھیہ پردیش ودیوت وِترن کمپنی کی جانب سے نصب کیے جا رہے اسمارٹ بجلی میٹروں کے خلاف تحصیلدار محترمہ امرتا سمن کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی اور مطالبہ کیا کہ ایک ہفتے کے اندر تمام اسمارٹ میٹر ہٹا کر پہلے کی طرح عام بجلی میٹر دوبارہ نصب کیے جائیں۔
یادداشت میں کہا گیا کہ گرام گڑھی میں تقریباً 1100 اسمارٹ بجلی میٹر نصب کیے جانے کا منصوبہ ہے، جن میں سے تقریباً 600 میٹر لگائے جا چکے ہیں جبکہ باقی 500 میٹر نصب کرنے کا عمل جاری ہے۔ دیہاتیوں کا الزام ہے کہ اسمارٹ میٹر لگنے کے بعد بیشتر صارفین کے بجلی کے بل غیر معمولی طور پر بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث غریب، کسان، مزدور اور متوسط طبقے کے خاندان شدید مالی بوجھ کا شکار ہو رہے ہیں اور عوام میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جن گھروں میں اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں انہیں فوری طور پر ہٹا کر سابقہ عام بجلی میٹر بحال کیے جائیں۔ اس کے علاوہ بجلی کے بڑھے ہوئے بلوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے، قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور تحقیقات مکمل ہونے تک گرام گڑھی میں اسمارٹ میٹر نصب کرنے کا پورا عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔
یادداشت میں واضح کیا گیا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر ان مطالبات پر مؤثر اور اطمینان بخش کارروائی نہ کی گئی تو گاؤں کے بجلی صارفین اور عوامی نمائندے جمہوری اور پرامن طریقے سے ایک وسیع اور شدید عوامی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور مدھیہ پردیش ودیوت وِترن کمپنی پر عائد ہوگی۔
اس موقع پر گرام پنچایت گڑھی کے سرپنچ سید مسعود علی پٹیل نے کہا کہ گاؤں کے عوام کسی بھی قیمت پر ایسے اسمارٹ میٹر قبول نہیں کریں گے جن کی وجہ سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل نکالنا انتظامیہ اور محکمہ بجلی کی ذمہ داری ہے، اگر بروقت مناسب فیصلہ نہ کیا گیا تو پورے علاقے میں اس کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک چلائی جائے گی۔
یادداشت پیش کرنے کے موقع پر اپ سرپنچ برجیش جاٹو، بی جے پی رہنما بھاگ چند چورسیا، جنپد رکن رضوان، سابق جنپد رکن کھیم چند چورسیا، ہندو اتسو سمیتی کے صدر روی چورسیا، مسلم تہوار کمیٹی کے صدر خالد منصوری، سابق جنپد رکن کشور یادو، نیرج پانڈا چورسیا، سید آفتاب علی، مشاہد علی پٹیل، اتھر علی، راہل جاٹو، نتن ماہیشوری، ویبھو جین، شیرو، سشیل جین، سید ودود علی پٹیل، راکیش جین، طیب خان، راہل کشواہا سمیت بڑی تعداد میں دیہاتی اور بجلی صارفین موجود تھے۔
اس دوران مدھیہ پردیش ودیوت وِترن کمپنی کے جونیئر انجینئر (جے ای) شلیش پٹیل، ستیندر لوہیا، پولیس چوکی انچارج تیج پال سنگھ، آر آئی نند کشور اہروار، پٹواری اور دیگر انتظامی افسران و ملازمین بھی موقع پر موجود رہے۔









