بھوپال، 28 جولائی: مدھیہ پردیش میں مونگ کی 100 فیصد سرکاری خرید اور کھاد کی تقسیم کے نظام میں اصلاحات کے مطالبات کو لے کر تقریباً 2 ہزار کسانوں کا قافلہ بھوپال پہنچ گیا ہے۔ چیف منسٹر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کے لیے آگے بڑھنے والے کسانوں کو روکنے کی خاطر ویر ساورکر سیٹو کے قریب بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، جہاں پولیس اور کسان آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ اس سے قبل 11 میل بائی پاس اور منڈی دیپ کے قریب کسانوں اور پولیس کے درمیان بیری کیڈنگ ہٹانے کو لے کر دھکم پیل ہوئی، تاہم کسان بیری کیڈز توڑ کر آگے بڑھنے میں کامیاب رہے۔ کسانوں کے اس مارچ کی وجہ سے ہوشنگ آباد روڈ پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ٹریفک کے راستے تبدیل کیے جانے کے باعث کٹارا ہلز روڈ پر تقریباً 3 کلومیٹر طویل جام لگ گیا۔ کسان اپنے ساتھ 7 دنوں کا راشن اور پانی لے کر آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک وہ سی ایم ہاؤس کے سامنے ڈیرہ ڈالے رکھیں گے۔
متحدہ کسان مورچہ کی قیادت میں ریاست کے 19 کسان تنظیمیں اس تحریک میں شامل ہیں۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کوئی جرم نہیں کر رہے بلکہ ملک کا پیٹ بھر رہے ہیں، اس کے باوجود انہیں جگہ جگہ روکا جا رہا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے ریاستی نائب صدر سنتوش پٹوارے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے ایک دو دنوں میں کسانوں کے حق میں فیصلہ نہ لیا تو وہ شدید قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
کسانوں اور وزیر زراعت کے درمیان مونگ کی خرید پر ہوئی بات چیت بھی بے نتیجہ رہی۔ دوسری جانب، جبل پور ہائی کورٹ نے آن لائن کھاد کی تقسیم کے نظام (ای-وکاس) کو درست قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے پالیسی سازی کے تحت یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔









