رائسین:26؍جولائی:(پریس ریلیز) رائے سین سے راحت گڑھ تک زیرِ تعمیر تقریباً 81 کلومیٹر طویل ٹو لین سڑک کے تعمیراتی کام میں مسلسل برتی جا رہی مبینہ لاپرواہی اب راہگیروں کی جان و مال کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ کئی ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی اس اہم سڑک پر آئے دن گاڑیوں کے پھنسنے، پلوں اور پلّیوں کے دھنسنے، سڑک کے ٹوٹنے، ٹریفک جام ہونے اور حادثات کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ تعمیراتی کام کی سست رفتاری اور حفاظتی انتظامات کے فقدان کے باعث عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
اتوار کی صبح غیرت گنج سے قبل سہج پور پٹرول پمپ کے نزدیک ایک بھاری ڈمپر زیرِ تعمیر سڑک میں دھنس گیا۔ ڈمپر کے پھنس جانے سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور تقریباً آدھے گھنٹے تک آمد و رفت مکمل طور پر بند رہی۔ بسوں، نجی گاڑیوں، مال بردار ٹرکوں اور دو پہیہ گاڑی چلانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں تعمیراتی کمپنی نے پوکلین مشین کی مدد سے ڈمپر کو باہر نکالا، جس کے بعد ٹریفک بحال ہو سکی۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران نہ تو مناسب حفاظتی اشارے نصب کیے گئے ہیں اور نہ ہی ٹریفک کی منظم اور مؤثر نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔ کئی مقامات پر سڑک کی سطح کمزور ہے، جس کی وجہ سے بھاری گاڑیاں بار بار دھنس رہی ہیں۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور یہ سڑک حادثات کا سبب بن رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک پر اس سے قبل بھی متعدد حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود تعمیراتی کمپنی اور متعلقہ محکمے کے طرزِ عمل میں کوئی نمایاں بہتری دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ عوام کا الزام ہے کہ کروڑوں اور اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود تعمیراتی کام کے معیار پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اس شاہراہ سے روزانہ ہزاروں چھوٹی اور بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں۔ ایسے میں بار بار لگنے والے ٹریفک جام، سڑکوں کا دھنس جانا اور تعمیراتی بے ترتیبی مسافروں، کسانوں، تاجروں، طلبہ اور مریضوں کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مدھیہ پردیش روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم پی آر ڈی سی) اور تعمیراتی کمپنی کے خلاف اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سڑک کی تعمیر کو معیاری انداز میں مکمل کرنے، تمام حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور ٹریفک نظام کو فوری طور پر بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ، آسان اور بہتر آمد و رفت کی سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن اگر تعمیراتی کام ہی عوام کی جان کے لیے خطرہ بن جائے تو متعلقہ اداروں کی جوابدہی طے کرنا ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انتظامیہ اس اہم منصوبے کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور عوام کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرے۔