بھوپال:25؍جولائی:وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تعلیم اور آیوش مسٹر اندر سنگھ پرمار نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی-2020 نے ہندوستانیت کے جذبے کے اظہار کا ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ نصاب اور کتابوں کے ذریعے بھارتی علمی روایت، ثقافتی ورثے، سائنسی نقط نظر اور تحقیق پر مبنی علم کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق پر مبنی، حقائق پر مشتمل، مستند اور معتبر ماخذ سے مزین درسی مواد ہی قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے معیار کا حقیقی پیمانہ ہے۔ وزیر مسٹر پرمار بھوپال میں واقع سروجنی نائیڈو سرکاری گرلز پوسٹ گریجویٹ (خود مختار) کالج میں محکمہ اعلیٰ تعلیم اور مدھیہ پردیش ہندی گرنتھ اکیڈمی کے مشترکہ زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ “انڈر گریجویٹ دوسرے سال کی کتاب نویسی اور انڈر گریجویٹ چوتھے سال کے نصاب کی تشکیل کی ورکشاپ” کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیربرائے اعلیٰ تعلیم مسٹر پرمار نے کہا کہ نصاب کا جائزہ لینا ایک نہایت اہم ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے ذریعے بھارتی علمی روایت کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ صرف کتاب نویسی کا کام نہیں بلکہ تعلیم میں بھارتی نقط? نظر کو قائم کرنے کی ایک قومی مہم ہے۔ مسٹر پرمار نے کہا کہ کتاب نویسی حوالہ جاتی، تحقیقی اور مستند ہونی چاہیے۔ ہر حقیقت، اقتباس اور حوالہ کا واضح ماخذ درج کیا جائے تاکہ تدریس اور مطالعے میں اعتبار اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں مستقل مکالمہ، تجاویز اور جائزہ ضروری ہیں۔ اس عمل میں طلبہ کی شمولیت بھی ایک اہم بنیاد ہونی چاہیے تاکہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مفید درسی مواد تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف کا علم ہر شعبے میں نہایت وقیع رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس علم کو جدید تقاضوں کے مطابق نصاب اور کتابوں میں جگہ دی جائے تاکہ آنے والی نسل بھارتی علمی روایت سے جڑتے ہوئے عالمی سطح پر بھی باصلاحیت بن سکے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ مدھیہ پردیش میں تیار ہونے والی کتابیں اپنے معیار کی وجہ سے پورے ملک میں مطلوب ہوں۔اس موقع پر شکشا سنسکرتی اْتھان نیاس، نئی دہلی کے قومی سکریٹری مسٹر اتل کوتھاری نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بھارتی علمی روایت کے میدان میں سنجیدہ غور و فکر اور بنیادی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب نویسی ایک اجتماعی فکری عمل ہے، اس لیے ہر مسودے کا سنجیدگی سے جائزہ اور تنقیدی مطالعہ ضروری ہے۔ بھارتی علمی روایت حقائق، سائنس اور تجربے پر مبنی ہے اور موجودہ دور میں اسی بنیاد پر نئی تخلیقات کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے اساتذہ کی تربیت، جامعات کی سطح پر بھارتی علمی روایت سے متعلق سرگرمیوں کے فروغ، نیز نصاب سازی اور کتاب نویسی میں طلبہ کی فعال شمولیت پر خصوصی زور دیا۔
کمشنر اعلیٰ تعلیم مسٹر پربل سپاہا نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو بروقت معیاری اور مستند مطالعاتی مواد فراہم کرنا محکمہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مصنفین اور مطالعاتی حلقوں سے اپیل کی کہ درسی مواد تحقیق، حوالہ، معیار اور مستند معلومات پر مبنی ہو تاکہ قومی تعلیمی پالیسی-2020 کی روح کے مطابق بہترین مطالعاتی مواد تیار کیا جا سکے۔ورکشاپ میں بھارتی علمی روایت کے تناظر میں 26 مسودات کا موضوعاتی ماہرین نے تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ انڈر گریجویٹ دوسرے سال کی کتابوں اور انڈر گریجویٹ چوتھے سال کے نصاب کو مزید مؤثر، بھارتی علمی روایت سے مالا مال، تحقیق پر مبنی اور طلبہ مرکز بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
پروگرام کے آغاز میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اسپیشل ڈیوٹی آفیسر ڈاکٹر دنیش دوے نے کارروائی کی رپورٹ پیش کی۔
اس موقع پر مدھیہ پردیش ہندی گرنتھ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مسٹر اشوک کڈیل، داخلہ و فیس ریگولیٹری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر رویندر کنہیرے، مدھیہ پردیش پرائیویٹ یونیورسٹی ریگولیٹری کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کھیم سنگھ دہریا، ماہر تعلیم اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمیش چندر بھاردواج، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، موضوعاتی ماہرین، مطالعاتی حلقوں کے صدور اور اراکین، مصنفین، نیز ریاست اور ملک بھر سے آئے ہوئے تقریباً 350 ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ مدھیہ پردیش ہندی گرنتھ اکیڈمی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اْتم سنگھ چوہان نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔