بھوپال 21 ستمبر(پریس ریلیز) آکار ادبی، ثقافتی سوسائٹی بھوپال کی جانب سے یومِ ہندی کے موقع پر، لگھو کتھا شودھ کندر کے دفتر، ہندی بھون میں 19 ستمبر بروزسنیچر، شام 5 بجے “ہندی ہیں ہم‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔
اس موقع پر پروگرام کی صدارت کر رہے معروف ادیب اقبال مسعود نے اپنے خطاب میں کہا:امیر خسرو کے ذریعے اردو رسم الخط میں لکھے گئے دوہے اور گیتوں کو ہندی نے جوں کا توں اپنا لیا۔ ملک محمد جائسی کی مشہور مثنوی ’پدماوت‘ ہندی ادب کی صوفیانہ ،عشقیہ شاعری کی روایت کی ایک اہم ترین تخلیق ہے جسے اردو نستعلیق رسم الخط میں تحریر کیا گیا۔ ہندی نے انہیں اپنا شاعر تسلیم کر لیا۔ سید انشا اللہ خاں کی تحریر کردہ ’رانی کیتکی کی کہانی‘ کو ہندی کی پہلی کہانی یا اولین نثری تخلیق مانا گیا۔ اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہندی کا دل بہت بڑا ہے۔ اس زبان میں ہندوستان کی تمام زبانوں کو اپنے اندر سمیٹنے اور محفوظ رکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔‘‘
مہمانِ خصوصی بلرام گُماشتہ نے کہا:
ہندی اور اردو کی ترقی کا سفر تقریباً ایک ساتھ ہی آگے بڑھا ہے۔ آج ہندی زبان کی تکنیکی ترقی کی ضرورت ہے۔ دنیا کے تقریباً ستر ممالک میں ہندی پڑھائی جا رہی ہے۔ ہندی کی ترقی میں ہم سب کا بھی اپنا حصہ ہے۔
مہمانِ اعزازی مکیش ورما نے اپنے خطاب میں کہا:ہندی کا دوسری ہندوستانی زبانوں کے ساتھ مکالمہ ضروری ہے۔ ہندی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہندی کو قومی زبان تو کہا گیا، لیکن اسے وہ درجہ نہیں دیا گیا۔ یہ درجہ نہ دیے جانے کے پیچھے بہت سے اسباب ہیں۔ ہمیں اپنے رویّے میں وسعت اور کشادگی پیدا کرنا ہوگی۔ تبھی ہندی کے قومی زبان بننے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔‘‘
مہمانِ اعزازیکانتا رائے نے ’’ہندی کا آغاز اور ارتقا‘‘ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’ہندی زبان کا آغاز اور ارتقا سنسکرت زبان سے ہوا۔ سنسکرت سے پالی، پالی سے پراکرت، پراکرت سے اپ بھرنش، اپ بھرنش سے اوہٹ ہوتی ہوئی ہندی ہم تک پہنچی ہے۔ سنہ 1800ء میں ہی جان گلکرسٹ کی نگرانی میں فورٹ ولیم کالج میں ہندی کی تدریس کا آغاز ہو گیا تھا۔ بھارتندو ہریش چندر اور مہاویر پرساد دویدی کی کوششوں سے کھڑی بولی کو جدید معیاری ہندی کی شکل حاصل ہوئی۔‘‘
مہمانِ اعزازی محمود مالک نے اردو کے فروغ میں ہندی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے متعدد اردو ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات میں ہندی الفاظ کے استعمال کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا:
-ہندوستان ایک کثیرا لمذہب ملک ہے جہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگ ساتھ ساتھ رہتے ہیں ، مختلف زبانیں اور بولیاں بولتے ہیں۔ یہی ثقافت ہمارے ملک کو خوبصورت بناتی ہے۔ ہم جو زبان بولتے ہیں، اس میں اردو شامل ہے اور اردو میں جو ادب تخلیق کیا جاتا ہے، اس میں ہندی کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اردو
میں گیت، دوہا اور پد ہندی ہی کی دین ہے۔ نظیر اکبرآبادی سے لے کر عظمت اللہ، بیکل اتساہی اور ندا فاضلی تک نے اپنے کلام میں ہندی کے الفاظ کاخوب صورت استعمال کیا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ندا فاضلی کی ایک مشہور نظم کا ایک بند اور کچھ دوہے پیش کیے:
چھوٹا کرکے دیکھیے،جیون کا وستار
آنکھوں بھر آکاش ہے بانہوں بھر سنسار
( ندا فاضلی )
شبد کیرتن کر رہا چڑیوں کا اک غول
بھرا خدا کے نور سے دھرتی کا ماحول
(شاہد میر )
مقرر عاصم حسین فاروقی نے ’’ہندی اور ہم وطن” کے عنوان سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
ہندی ہمارے وطن کی روح اور کثرت میں وحدت کی سب سے بڑی علامت ہے۔ یہ ہماری گفتگو کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ ہمارے ہم وطنوں کو موتیوں کے ہار کی طرح ایک دوسرے سے جوڑنے والا ثقافتی مضبوط دھاگا بھی ہے۔ مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب تک مختلف زبانیں بولنے والے جب آپس میں ملتے ہیں تو ہندی ان کے درمیان گفتگو کا سب سے آسان ذریعہ بن جاتی ہے۔
ایک اور مقرر نمرہ صدیقی نے ’’ڈیجیٹل عہد میں ہندی کے امکانات اور چیلنجز‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے۔ زبان ایک زندہ ثقافت ہوتی ہے۔ یہ ہمارے سوچنے کا طریقہ ہے، ہمارے محسوس کرنے کا وسیلہ ہے، اور جب ہماری ثقافت خود ڈیجیٹل ہو رہی ہے، ہماری خریداری ای کامرس پر ہے اور ہمارے رشتے سوشل میڈیا پر ہیں، تو یہ فطری بات ہے کہ اس ڈیجیٹل ثقافت کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہماری زبان کا ڈیجیٹلائزیشن بھی ہو۔ زبان کا ڈیجیٹلائزیشن کوئی اختیار نہیں بلکہ اس وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں ہندوستانی سافٹ ویئر ڈویلپرز کا نمایاں مقام ہے۔ گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدوں پر ہندوستانی موجود ہیں، پھر بھی بنیادی طور پر ہندی میں تیار کیے گئے سافٹ ویئر اور ایپس کی شدید کمی کیوں ہے؟پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری مظفر اقبال صدیقی نے نہایت دلکش انداز میں بہ بحسن و خوبی اس طرح انجام دی کہ معزز سامعین، جن میں شہر کے نامور شاعر،ادیب صحافی اور با ذوق حضرات شامل تھے،پروگرام کے مکمل ہونے تک نہ صرف موجود رہے بلکہ موقع و محل کے اعتبار سے ان کے خوبصورت جملوں کو داد و تحسین سے نوازتے رہے۔جہاں ڈاکٹر شکیل خان نے نہایت انکساری اورعزت و احترام کے ساتھ تمام مہمانوں کا پر خلوص استقبال کیا، وہیں صوفیہ خان نے مہمانان، منتظمین اور ادبی ذوق رکھنے والے موجود تمام احباب کا خلوص دل سےشکریہ ادا کیا۔