بھوپال:21؍ستمبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ آنجہانی مسٹر اٹل بہاری واجپائی ہندوستانی سیاست کے عظیم رہنما تھے۔ انہوں نے ملک کو ترقی اور گڈ گورننس کی نئی سمت دکھائی۔ آنجہانی اٹل جی ہندوستانی سیاست اور قومی زندگی کا فخر ہیں۔ان کی زندگی جمہوری اقدار سے وابستگی اور ان کے لیے عہدوفا کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کے خیالات صدیوں تک ہم سب کو ہمیشہ تحریک دیتے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ قابل احترام اٹل جی کی زندگی ہم سب کے لیے رہنمائی کرنے والی روشنی کا مینار ہے۔ وہ پاکیزگی اور عاجزی کی مجسم تصویر تھے۔ ان کی قوم پرستی اور گڈ گورننس کے اصولوں کو اپنانا ہی ان کے تئیں سچی خراج عقیدت ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پیر کو گووندپورہ صنعتی علاقے میں واقع نجی ادارے کے احاطے میں بھارت رتن اور سابق وزیر اعظم قابل احترام اٹل بہاری واجپائی کے مجسمے کی نقاب کشائی کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس نجی ادارے کے مونو کی بھی رونمائی کی۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آنجہانی مسٹر اٹل جی کی پوری زندگی ملک اور عوام کی خدمت کے لیے وقف رہی۔ ان کی شخصیت میں عوامی فلاح اور سیاسی پاکیزگی ہمیشہ اٹل رہی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاست میں پاکیزگی، خیالات میں مضبوطی اور برتاؤ میں شائستگی، ان تین عظیم خوبیوں کا امتزاج اٹل جی کی شخصیت کی پہچان تھا۔ انہوں نے کہا کہ اٹل جی نے اقتدار اور حزبِ اختلاف، دونوں میں جمہوری روایات کی مثال پیش کی۔ ان کی یہ تعلیم آج بھی متعلقہ ہے کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ملک اور جمہوریت قائم رہنی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ قابل احترام اٹل بہاری واجپائی کے دکھائے ہوئے راستے، ان کی قوم پرستی اور گڈ گورننس کے ماڈل کو اپنانا ہی ان کے تئیں سچی خراج عقیدت ہے۔ آج جب وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان عالمی گرو بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، تب اٹل جی کے خیالات اور اصولوں کو اپنانا سب کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرحوم اٹل جی نے ہمیں سکھایا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے کس طرح کا طرزِ عمل ہونا چاہیے اور حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے سیاسی روایات کی پابندی کیسے کی جاتی ہے۔ اٹل جی نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے سب سے طویل مدت تک حزبِ اختلاف کے رہنما کی ذمہ داری نبھائی۔ ایمرجنسی کے دور میں جب جمہوریت پر حملہ ہوا، تو انہوں نے تقریباً 19 ماہ جیل میں گزارے تھے۔ ہندوستانی سیاست کی تاریخ رہی ہے کہ جب ملک پر بحران آتا ہے، تو ہم ہندوستانی سیاسی جماعتوں کی حدود کو بھول کر ایک عزم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شریمتی اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں جب بنگلہ دیش کی جنگ جاری تھی، تو قابل احترام اٹل جی نے کھلے دل سے وزیر اعظم اور حکومت کی حمایت کی تھی۔
اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، ملک اور جمہوریت قائم رہنی چاہیے
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اٹل جی کی پارلیمانی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے اور حکومتیں بھی بدلتی رہتی ہیں، لیکن ملک قائم رہنا چاہیے، ملک کی جمہوریت برقرار رہنی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے اسے ہندوستان کی جمہوریت کی عظمت اور اٹل جی کی عظیم شخصیت کا ثبوت بتایا۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو یہ جاننا چاہیے کہ ہمارے درمیان ایسے اٹل جی رہے ہیں، جنہوں نے حکومت کے رہنما کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے رہنما کے کردار اور اس کی ذمہ داریوں کی بھی مثال پیش کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے نجی ادارے کے مالک مسٹر تریلوکی اگروال کا اظہارتشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے نجی ادارے میں اٹل جی کا مجسمہ نصب کرکے معاشرے کو ان کی متاثر کن زندگی سے جوڑنے کا نیک کام کیا ہے۔
پروگرام میں موجود سابق گورنر مسٹر کپتان سنگھ سولنکی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ریاست کے اہم خادم ہیں۔ وزیر اعظم مسٹر مودی بھی خود کو ملک کا اعلیٰ خادم ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے سیوا سنکلپ ابھیان میں عوامی فلاح کا عزم لیا ہے۔ عوام کی بھلائی کے بغیر عوامی خدمت نہیں ہو سکتی۔ عوامی خدمت سے گڈ گورننس قائم ہوتی ہے۔ آج یہاں اٹل جی کے مجسمے کی نہیں بلکہ ایک تحریک کے مینار کی نقاب کشائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک دھاگے میں پرونے کے ساتھ سبھی کو ملک کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ اٹل جی کے لیے قوم ہمیشہ سب سے مقدم رہی۔ وہ ملک کو جوڑنے کے لیے ’سورنم چتربھج راج مارگ یوجنا‘ لے کر آئے۔ انہوں نے ملک کے گاؤں گاؤں کو پکی سڑکوں سے جوڑا۔ خشک سالی کے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے ملک کی ندیوں کو آپس میں جوڑنے کا خیال پیش کیا۔ آنجہانی مسٹر اٹل جی کے لیے ہندوستان ایک جیتا جاگتا قومی مرد تھا۔ مسٹر سولنکی نے کہا کہ آج ہندوستان کی جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 7.8 فیصد کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ دنیا میں چین اور امریکہ سے بھی زیادہ ہے۔
پروگرام میں مدھیہ پردیش ہندی گرنتھ اکادمی کے صدر مسٹر اشوک کڑیِل، سابق رکن اسمبلی مسٹر ششوپال سنگھ یادو، محکمہ مائیکرو، اسمال اور میڈیم صنعتوں کے کمشنر مسٹر کمار پرشوتم، نجی ادارے کے مسٹر اجے کمار سونی سمیت بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے نجی ادارے کے احاطے میں نصب ڈیجیٹل پرنٹنگ مشینوں کا معائنہ بھی کیا۔