لکھنو18جولائی: لکھنؤ میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے زیر اہتمام منعقدہ ہندو مسلم اتحاد کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت اور فرقہ واریت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند محبت، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی اور سماجی تنظیم ہے، اس کا سیاست یا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں نفرت کی سیاست نے ملک کے سماجی ماحول کو شدید متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نفرت کی ان آندھیوں میں محبت کے چراغ روشن کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے اور اس مہم میں ہر انصاف پسند شہری کو شامل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک میں پائیدار تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے ہم خیال افراد متحد ہو کر نفرت اور تعصب کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں علماء نے نمایاں کردار ادا کیا اور ملک کے اتحاد و سالمیت کے لیے قربانیاں پیش کیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بنیاد پر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کیرالا کے سیلاب متاثرین کی امداد اور آسام میں شہریت کے مسئلے سے متعلق قانونی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے بلا امتیاز تمام ضرورت مندوں کی مدد کی ہے۔ مولانا مدنی نے تعلیمی نظام میں مسلسل پیپر لیک کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے اور ایسے کمزور نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مولانا محمد علی جوہر یونی ورسٹی سے متعلق تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر نقشہ کی منظوری سے متعلق کوئی قانونی مسئلہ ہو تو اس کا حل قانونی اور انتظامی طریقے سے نکالا جانا چاہیے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔