نئی دہلی16جولائی: دہلی ہائی کورٹ نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی صحت اور سلامتی سے متعلق دائر مفادِ عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ان کے باقاعدہ طبی معائنہ کرایا جائے اور ڈاکٹروں کی رپورٹ کی بنیاد پر ضرورت پڑنے پر فوری مداخلت کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ہر شہری کی زندگی انمول ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ خیال رہے کہ سونم وانگچک گزشتہ 19 دنوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک اور شعبہ تعلیم میں بےضابطگیوں کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفی دینا چاہئے۔ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے خدشات کے پیش نظر دہلی ہائی کورٹ میں ایک مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی، جس پر جمعرات کو سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پہلے ہی نوٹس جاری کیا جا چکا ہے اور سونم وانگچک کی صحت کی روزانہ بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جب بھی سونم وانگچک نے اجازت دی، سرکاری ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا اور نجی ڈاکٹروں کو بھی ان کی صحت جانچنے کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آیا سونم وانگچک کی طبی جانچ کے لیے کوئی باقاعدہ انتظام موجود ہے یا نہیں۔ اس پر حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی روزانہ صحت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور انہیں اور ان کے ساتھ موجود افراد کو ان کی صحت سے متعلق تمام ضروری معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ سرکاری ڈاکٹر سونم وانگچک کا مسلسل طبی معائنہ کریں اور اگر ڈاکٹروں کی رپورٹ میں ان کی صحت کے حوالے سے کسی خطرے کی نشاندہی ہو تو حکومت فوری طور پر مناسب اقدامات کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انسانی جان سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور کسی بھی شہری کی جان بچانے کے لیے بروقت مداخلت ضروری ہے۔ سالیسٹر جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت سونم وانگچک کی صحت کے معاملے میں مکمل طور پر حساس ہے اور ڈاکٹروں کی سفارشات کے مطابق جو بھی طبی سہولت یا ضروری اقدام ہوگا، اسے فوری طور پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کی جان قیمتی ہے اور حکومت اس ذمہ داری کو پوری سنجیدگی سے نبھائے گی۔ عدالت نے حکومت کے اس مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کی رائے اور طبی مشوروں کی بنیاد پر سونم وانگچک کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ان کی حالت مزید خراب ہونے سے روکی جا سکے۔