پٹنہ 16جولائی: آئی آر سی ٹی سی گھوٹالے سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کو فی الحال عدالت سے راحت ملی ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ نے جمعرات کو الزامات طے کرنے پر اپنا فیصلہ مؤخر کر دیا۔ اب اس معاملے میں عدالت 31 جولائی کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس معاملے کی تحقیقات انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کر رہا ہے۔ ای ڈی نے اس کیس میں لالو پرساد یادو، تیجسوی یادو، رابڑی دیوی، میسا بھارتی، ہیما یادو، تیج پرتاپ یادو اور دیگر ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر رکھی ہے۔ اس سے قبل 9 جون کو بھی عدالت نے آئی آر سی ٹی سی ہوٹل گھوٹالے سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں الزامات طے کرنے کے فیصلے کو 16 جولائی تک کے لیے محفوظ رکھتے ہوئے مؤخر کر دیا تھا۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ 2004 سے 2009 کے درمیان جب لالو پرساد یادو وزیر ریل تھے، تب آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے آپریشنز کے لیے دیے گئے ٹھیکوں میں بے ضابطگیاں کی گئیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق ہوٹلوں کی دیکھ بھال کا ٹھیکہ طے شدہ قوانین اور طریقہ کار کی پاسداری کیے بغیر آر جے ڈی سربراہ کے قریبی ساتھیوں سے جڑی ایک نجی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ استغاثہ کا یہ بھی الزام ہے کہ ان ٹھیکوں کے بدلے لالو پرساد یادو کے خاندان اور ان کے ساتھیوں سے جڑی ایک بے نامی کمپنی کے ذریعے تقریباً 3 ایکڑ قیمتی زمین حاصل کی گئی۔ اس کیس میں لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، بیٹوں تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو، اور بیٹیوں میسا بھارتی اور ہیما یادو سمیت کئی دیگر لوگ ملزم ہیں۔ اس سے قبل خصوصی عدالت کے جج نے تمام ملزمان اور ای ڈی کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد الزامات طے کرنے کے معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اب سب کی نظریں 31 جولائی پر ہیں، جب راؤز ایونیو کورٹ یہ طے کرے گی کہ اس کیس میں فرد جرم عائد کی جائے گی یا نہیں۔