رائسین:30؍جون(پریس ریلیز) ضلع رائسین کے گڑھی جنگلاتی حلقہ کے تحت آنے والی مڑیاکھیڑا بیٹ نمبر 30 ایک بار پھر ساگوان اسمگلروں کے نشانے پر آ گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب نامعلوم اسمگلروں نے تقریباً 30 قیمتی ساگوان کے درخت غیر قانونی طور پر کاٹ ڈالے، جن کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد محکمۂ جنگلات میں ہلچل مچ گئی ہے اور پورے علاقے میں اس معاملے کو لے کر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اسی بیٹ میں اس نوعیت کی واردات انجام دی گئی ہو۔ اس سے قبل بھی اسی علاقے سے تقریباً 24 ساگوان کے درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ ایک ہی مقام پر بار بار اس طرح کی بڑی وارداتوں نے محکمۂ جنگلات کی گشت، نگرانی اور حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں ایک منظم لکڑی اسمگلر گروہ کافی عرصے سے سرگرم ہے، جو قیمتی ساگوان کی غیر قانونی کٹائی اور اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ یہ بھی چرچا ہے کہ اس نیٹ ورک کے روابط مدھیہ پردیش سے باہر، خصوصاً راجستھان تک پھیلے ہوئے ہیں، تاہم محکمۂ جنگلات نے ابھی تک ان اطلاعات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
اس معاملے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں جنگلاتی دولت کی چوری کے باوجود محکمۂ جنگلات کی جانب سے اب تک کوئی واضح اور تفصیلی معلومات عوام کے سامنے نہیں رکھی گئی ہیں۔ گڑھی جنگلاتی حلقہ کے رینجر دھیرندر پانڈے سے جب اس واقعہ اور کارروائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ “تحقیقات جاری ہیں، ہر پہلو سے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس واردات میں کون لوگ شامل ہیں، اس کی بھی چھان بین ہو رہی ہے۔ امید ہے کہ کل تک صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔”
رینجر کے اس بیان کے بعد بھی کئی سوالات بدستور برقرار ہیں اور معاملہ مزید پراسرار بنتا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب ایک ہی بیٹ میں بار بار قیمتی ساگوان کے درخت کاٹے جا رہے ہیں تو یہ صرف اسمگلروں کی سرگرمی نہیں بلکہ محکمۂ جنگلات کی نگرانی میں موجود کمزوریوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
علاقے کے لوگوں نے اس پورے معاملے کی غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف اسمگلروں کو گرفتار کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اگر کسی سرکاری اہلکار کی لاپرواہی یا غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
اب پورے علاقے کی نظریں محکمۂ جنگلات کے اعلیٰ افسران پر ٹکی ہوئی ہیں کہ وہ اس بڑے جنگلاتی جرم کا پردہ کب فاش کرتے ہیں، اسمگلروں کے منظم گروہ تک کب پہنچتے ہیں اور مستقبل میں قیمتی جنگلاتی وسائل کی حفاظت کے لیے کون سے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں۔