نئی دہلی15جون: کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے لگاتار طلبا کے مسائل اٹھا رہے ہیں، خصوصاً پیپر لیک معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے ملک کے نوجوانوں اور طلبا کے حق کی لڑائی لڑنے کا ایک طرح سے اعلان کر دیا ہے۔ اس تعلق سے 17 جون کو راجستھان کے شہر کوٹہ میں ایک عظیم الشان ریلی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جانکاری دی ہے، اور کہا ہے کہ ’’ملک کے لاکھوں نوجوان پیپر لیک ہونے، بھرتیوں میں تاخیر، امتحانات کی منسوخی اور روزگار کے مواقع میں کمی جیسے مسائل سے شدید پریشان ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی آواز کو منظم انداز میں بلند کیا جائے۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ آج ملک میں نوجوانوں کو محنت کا صلہ نہیں مل رہا بلکہ خواب دیکھنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ہر پرچہ لیک ہونے کا واقعہ، ہر منسوخ امتحان اور ہر ادھوری بھرتی صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے خوابوں پر براہ راست حملہ ہے۔ انھوں نے نوجوانوں کی مایوسی اور بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں ملک کا نوجوان طبقہ تھکا ہوا اور غصے میں ہے، لیکن ایسے حالات میں خاموش رہنے کے بجائے اپنی آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ جب حکومت سننے کے لیے تیار نہ ہو تو عوام کو اپنی بات مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے متحد ہونا پڑتا ہے۔
کانگریس لیڈر نے اسی مقصد کے تحت 17 جون کو راجستھان کے شہر کوٹہ میں ’طلبہ کی گونج‘ عنوان سے ایک عظیم الشان مہاریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بارے میں راہل گاندھی نے کہا کہ کوٹہ سے اٹھنے والی یہ آواز ملک کے گوشے گوشے تک پہنچائی جائے گی تاکہ نوجوانوں کے مسائل کو نظر انداز نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے مستقبل کی لڑائی ہے اور وہ اس جدوجہد میں طلبا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ راہل گاندھی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ 17 جون کو کوٹہ پہنچ کر اپنی آواز کو مضبوط بنائیں اور ایک ایسی اجتماعی گونج پیدا کریں جسے نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو۔









