ہندی اخبارات کے ۴؍جون کے شمارے میں شائع خبر کے مطابق برکت اللہ یو نیو رسٹی کا نام اب ’’باگ دیوی بھوجپال‘‘ یونیورسٹی ہوگا اور فارسی و عربی شعبوں کو سنسکرت شعبہ میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس قسم کی سفارشات یونیورسٹی کی تعلیمی امور کمیٹی (ایگزیکٹو کونسل ) کے ذریعہ صوبائی حکومت کو ارسال کی جا رہی ہے۔ اب آخری فیصلہ صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ ’’باگ دیوی بھوجپال ‘‘ نام سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ لیکن ہندوستان کی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد برکت اللہ بھوپالی جس نے بھوپال کو اپنی خدمات سے پوری دنیا میں متعارف کرایا۔ برٹش حکومت کے خلاف سینہ تان کر کابل میں آزاد ہندوستان کی جلا وطن حکومت قائم کی جس کے صدر راجا مہیندر پرتاپ اور وزیر اعظم وہ خود تھے۔ اس کے ساتھ وزیروں کی پوری کونسل بھی تھی۔ برکت اللہ بھوپالی کی مجاہدانہ کارروائیوں نے برٹش حکومت کی چول ڈھیلی کر دی تھی۔ اتنی عظیم شخصیت کے نام کو خارج کر دینا اُن کی خدمات کی نفی کر دینے کے مترادف تو ہے ہی اُن کی توہین بھی ہے۔
دوسری سفارش میںیونیورسٹی کے عربی اور فارسی شعبوں کو شعبۂ سنسکرت میں ضم کر دینے کی تجویز ہے جو تعلیم کے بنیادی اُصولوں کے خلاف تو ہے ہی بلکہ ان شعبوں کو ختم کر دینے کے مترادف ہے۔اس لئے بھوپال کے عوام کا صوبائی حکومت سے یہ پُر زور مطالبہ ہے کہ مذکورہ دونوں تجویزوں کو خارج کیا جائے اور دونوں معاملوں میں موجودہ حیثیت برقرار رکھی جائے ۔’’ باگ دیوی بھوجپال ‘‘نام کو زندہ کرنا ہے تو نئی یونیورسٹی قائم کی جائے۔








