رائسین:08؍(پریس ریلیز) ضلع رائسین کی تحصیل بمہوری میں جمعیۃ علماء ہند ضلع رائسین یونٹ کے زیرِ اہتمام اتوار 7 جون کو نمازِ عشاء کے بعد “اصلاحِ معاشرہ و اتحادِ ملت” کے عنوان سے ایک عظیم الشان دینی، سماجی اور اصلاحی جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے میں ضلع بھر اور اطراف کے علاقوں سے تشریف لائے علماء کرام، سماجی کارکنان، جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران، نوجوانوں اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جلسے میں جمعیۃ علماء ہند نئی دہلی کے ناظمِ عمومی مولانا مفتی معصوم ثاقب صاحب بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے جبکہ صدارت جمعیۃ علماء ہند مدھیہ پردیش کے صدر مولانا مفتی احمد خان صاحب نے فرمائی۔ اس موقع پر مولانا عبدالقادر قاسمی صاحب بطور مہمانِ خصوصی موجود رہے جبکہ سرپرستی مولانا عتیق الرحمن صاحب مظاہری گڑھی نے فرمائی۔
نئی نسل کی صحیح تربیت آج کا سب سے بڑا چیلنج: مفتی معصوم ثاقب اپنے مفصل اور اثر انگیز خطاب میں مولانا مفتی معصوم ثاقب نے فرمایا کہ موجودہ دور میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ نئی نسل کی صحیح تعلیم و تربیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں جو دینی شعور اور اخلاقی اقدار نظر آتی ہیں وہ علماء کرام، مدارس، مساجد اور سماجی اداروں کی طویل محنت کا نتیجہ ہیں، لیکن آنے والی نسلوں کو صحیح سمت دینا آج ہم سب کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی بذاتِ خود ایک بڑی نعمت ہیں۔ اگر ان کا استعمال تعلیم، علم، تجارت، روزگار اور انسانیت کی خدمت کے لیے کیا جائے تو یہ معاشرے کی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، لیکن اگر انہیں نفرت پھیلانے، افواہیں عام کرنے، لوگوں کو ہراساں کرنے، سائبر جرائم یا دیگر غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو ان کے نقصانات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
مفتی صاحب نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند پورے ملک میں تعلیم، ریلیف، قانونی امداد، سماجی اصلاح اور انسانیت کی خدمت کے میدان میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم بے گناہ افراد کو انصاف دلانے، سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
اصلاحِ معاشرہ صرف ایک طبقے نہیں بلکہ پورے ملک کی ضرورت
مولانا مفتی معصوم ثاقب نے اپنے خطاب میں کہا کہ “اصلاحِ معاشرہ” صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کی بنیادی ضرورت ہے۔ فرد سے خاندان، خاندان سے معاشرہ اور معاشرے سے قوم و ملک کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر فرد کا کردار بہتر ہوگا تو خاندان مضبوط ہوگا اور جب خاندان مضبوط ہوں گے تو معاشرہ اور ملک بھی مستحکم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جدید طرزِ زندگی نے خاندانی اور سماجی رشتوں کو کمزور کیا ہے، اس لیے آج اخلاقی اقدار کے تحفظ، معاشرتی اصلاح اور انسانی تعلقات کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
اتحادِ ملت اور قومی یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت
مفتی معصوم ثاقب نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری اور کثیر مذہبی ملک ہے جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد کے ساتھ ساتھ ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام برادریوں کے ساتھ بھائی چارے اور خیر سگالی کے تعلقات کو فروغ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب معاشرے کے تمام طبقات محبت، تعاون اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزاریں گے تبھی ملک حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا۔ انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا اور برائیوں سے اجتناب کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
نوجوانوں کو سادہ نکاح اور خدمتِ خلق کا عہد دلایا
جلسے کا سب سے جذباتی اور متاثر کن لمحہ اس وقت سامنے آیا جب مولانا مفتی معصوم ثاقب نے موجود نوجوانوں کو کھڑے ہو کر سادہ نکاح کا عہد دلایا۔
انہوں نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں دکھاوا اور فضول خرچی نہ ہو۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے نکاح اور ولیمے کو سادگی کے ساتھ انجام دیں اور غیر ضروری اخراجات سے بچنے والی رقم یتیموں، بیواؤں، ضرورت مند طلبہ، بیماروں اور غریب خاندانوں کی مدد پر خرچ کریں۔
مفتی صاحب کی اپیل پر بڑی تعداد میں نوجوانوں نے کھڑے ہو کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یہ عہد کیا کہ وہ اپنی شادیوں کو سادہ بنائیں گے اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
اصلاحِ معاشرہ اور انسانیت کا پیغام دیا: مولانا عتیق الرحمن مظاہری
جلسے کے سرپرست مولانا عتیق الرحمن مظاہری نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی خرابیوں اور خاندانی انتشار کو روکنے کے لیے دینی و سماجی بیداری نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام انسانیت، بھائی چارے، رحم دلی اور سماجی ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہر فرد اپنے فرائض کو سمجھے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرے۔
انہوں نے نوجوانوں کو اخلاقی اقدار اپنانے، بزرگوں کا احترام کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
خود احتسابی اور اصلاح سے ہی معاشرہ بدل سکتا ہے: مولانا عبدالقادر قاسمیجمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ تنظیم مولانا عبدالقادر قاسمی نے کہا کہ معاشرتی تبدیلی کا آغاز فرد کی اپنی اصلاح سے ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے کردار، رویے اور افکار کو درست کر لیتا ہے تو اس کے اثرات خاندان اور معاشرے پر بھی نمایاں طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو دیانت داری، حسنِ اخلاق، اعلیٰ کردار اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی نصیحت کی۔ ساتھ ہی جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جاری سماجی، قانونی اور امدادی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔آزادی کی جدوجہد میں علماء کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب: مفتی احمد خان
جلسے کی صدارت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند مدھیہ پردیش کے صدر مولانا مفتی احمد خان نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں علماء کرام اور جمعیۃ علماء ہند کا کردار تاریخ کا ایک روشن اور سنہرا باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں علماء نے انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں اور بے شمار افراد نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو ان عظیم قربانیوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان میں حب الوطنی، قومی یکجہتی، انسان دوستی اور سماجی ذمہ داری کا جذبہ پیدا ہو۔انہوں نے معاشرے میں امن، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے فروغ پر خصوصی زور دیا۔
ضلع رائسین میں تعلیم، ریلیف اور سماجی خدمات کے متعدد منصوبے جاری
جمعیۃ علماء ہند ضلع رائسین کے صدر مولانا حامد خان قاسمی نے تنظیم کی سالانہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی یونٹ تعلیم، ریلیف، قانونی امداد، سماجی اصلاح اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے میدان میں مسلسل سرگرم عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غریب طلبہ کی تعلیمی معاونت، ضرورت مند افراد کی قانونی رہنمائی، طبی امداد اور سماجی فلاح و بہبود کے مختلف پروگرام باقاعدگی سے جاری ہیں۔
تحصیل سطح پر بھی عوامی خدمت اور بیداری کی سرگرمیاں جاری
بمہوری تحصیل کے صدر مولانا عبد الواحد صاحب نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنوانے، سرکاری اسکیموں کا فائدہ دلانے، غریب بچیوں کی شادی میں تعاون، تعلیمی و طبی امداد، نشہ مکتی مہم اور سماجی تنازعات کے حل جیسے عوامی فلاحی کام مسلسل انجام دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف دیہاتوں کے دورے کرکے عوام میں بیداری پیدا کرنے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
ہزاروں افراد کی شرکت
جلسے کی نظامت مفتی شکیل احمد واجدی نے انجام دی۔ اس عظیم الشان اجتماع میں ضلع بھر سے آئے علماء کرام، جمعیۃ کے ذمہ داران، سماجی کارکنان، نوجوانوں اور عوام الناس نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
آخر میں جمعیۃ علماء قصبہ بمہوری کے صدر مولوی اکرم صاحب نے تمام مہمانانِ گرامی، علماء کرام، ذمہ داران اور حاضرینِ جلسہ کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کا اختتام ملک و ملت، ریاست مدھیہ پردیش اور پورے معاشرے میں امن، بھائی چارے، تعلیم، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔








