بھوپال:08؍جون:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود محکمہ کی جانب سے صنعت کاری اور خود روزگار اسکیم کے تحت دی جانے والی سبسڈی اور قرض امداد سہولت بروقت نیزآسان انداز میں فراہم کی جائے اور اس کے استعمال کی نگرانی بھی کی جائے۔ محکمہ اپنی داخلی کارروائی مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ مستحق فرد کو بینک سے مناسب سبسڈی اور قرض دلانے میں بھی اس کی مدد کرے۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات اور اقلیتی طلباء کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی وظائف کی رقم اسی سال مقررہ تاریخ تک لازمی طور پر تقسیم کر دی جائے جس سال وہ وظیفہ واجب الادا ہو۔ محکماتی افسران اس مقصد کے لیے اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ بہتر اشتراک قائم کرکے کام کریں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو پیر کومحکمہ پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود کی اسکیموں اور سرگرمیوں کی جائزہ میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے محکماتی افسران کو ہدایت دی کہ کسی بھی عمل کا مقصد اہل مستحقین کو آسان، سہل اور بروقت فائدہ پہنچانا ہونا چاہیے۔ مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی تکنیکی مسئلے یا دیگر طریقہ کار کی خامیوں کا فوری حل کیا جائے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست کی تمام اقسام کی وقف جائیدادوں کا اندراج مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام امید پورٹل” پر لازمی طور پر کیا جائے اور وقف جائیدادوں سے متعلق زمینی تنازعات کے حل کے لیے مسلسل نگرانی کرتے ہوئے ان کا مثبت تصفیہ یقینی بنایا جائے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ “امید پورٹل” پر وقف جائیدادوں کے اندراج کے معاملے میں مدھیہ پردیش پورے ملک میں پہلے مقام پر ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے افسران سے کہا کہ محکمہ زیرالتوا اعلانات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ محکمانہ تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل کر کے مناسب فیصلہ کیا جائے۔ تمام طے شدہ حقیقی اور مالی اہداف کے حصول کے لیے ماہانہ یا مقررہ وقفوں پر تفصیلی جائزہ لیں کر انہیں وقت کی حد کے اندر مکمل کیا جائے۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود محکمہ کی تمام اسکیموں کے بارے میں ضرورت مند افراد اور درخواست دہندگان کو تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک “ورچوئل وائس اسسٹنس ٹول” تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ “ڈیجیٹل مارکیٹنگ فار پروموٹنگ ڈپارٹمنٹل ایکٹیویٹی” کے تحت محکمہ “ڈیجیٹل مارکیٹنگ” کے ذریعہ طلباء کو “ایم پی آن لائن” کے ذریعہ بیدار بھی کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس محکمانہ اختراع کو “ایم پی ای-سیوا پورٹل” سے جوڑنے کی ہدایت دی، تاکہ او بی سی سمیت دیگر تمام طبقات کے طلباء کو ان کے لئے نافذ روزگار پر مبنی اور خود روزگار کے قیام سے وابستہ اسکیموں کی جانکاری کا فائدہ مل سکے۔ میٹنگ میں پرنسپل سکریٹری پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود مسٹر ای رمیش کمار نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی وزارتِ اقلیتی امور کے تعاون سے مدھیہ پردیش میں جلد ہی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سمیولیٹری اسپیس سینٹر قائم کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ریاست کے طلباء اور شہریوں میں سائنسی سوچ اور خلائی سائنس کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا ہے۔اس سینٹر کے بہتر نفاذ کے لیے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور مدھیہ پردیش کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (میپ کاسٹ) سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔
میٹنگ میں وزیر مملکت پسماندہ طبقات و اقلیتی بہبود اور خانہ بدوش و نیم خانہ بدوش بہبود (آزادانہ چارج) شریمتی کرشنا گور، چیف سکریٹری مسٹر انوراگ جین، ایڈیشنل چیف سکریٹری(وزیراعلیٰ دفتر) مسٹر نیرج منڈلوئی، ایڈیشنل چیف سکریٹری(مالیات) مسٹر منیش رستوگی، ایڈیشنل سکریٹری مسٹر انوراگ چودھری، محکماتی کمشنر مسٹر سوربھ کمار سمن اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔









