دہلی:7 جون(پریس ریلیز)معروف مفکر و دانشور پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ محب اردو کرشن لال نارنگ ساقیؔ کا انتقال اردو کی ادبی دنیا کو سوگوار کر گیا۔ وہ اردو زبان و ادب کے مخلص خدمت گذار، معروف ناشر، ادیب اور سماجی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی موت اہل قلم کے نزدیک اردو دنیا کا بڑا نقصان ہے۔ اردو زبان وادب کی ترقی میں وہ غیر معمولی طور پر دلچسپی لیتے تھے۔
پروفیسر واسع نے کہا کہ نارنگ ساقیؔ اپنی خوش اخلاقی، مہمان نوازی اور اردو سے والہانہ وابستگی کے لیے جانے جاتے تھے۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ خود کئی کتابوں کی تدوین کی بلکہ دیگر اہل قلم کی حوصلہ افزائی میں نمایاں کردار انجام دیا۔ آج سات جون کو دہلی کے لودھی روڈشمشان گھاٹ میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
پرفیسر واسع نے مزید کہا کہ افسوس یہ ہے کہ اس میں باوجود اتوار کی چھٹی ہونے کے اردو والے وہاں پر مشکل سے کل پانچ ہی پہنچے جن میں غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمداور ممبئی سے دہلی آئے ہوئے مشہور ادیب طارق شمیم شامل تھے۔
پروفیسر واسع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ اردو والوں کی اس بے حسی اور نظر انداز کیے جانے کے رویے کا اردو کے سچے معنوں میں مخلصین اور مربیین پر صحت مند اثر نہیں پڑے گا۔بہر حال ہم اردو کے شیدائی اور کرم فرما کے ایل نارنگ ساقیؔ کی موت پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔









