نئی دہلی 6جون:’’لوگ کہتے ہیں تحریک، دھرنا و مظاہرہ اور جلوس نکالنے سے کیا ہوتا ہے؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم زندہ ہیں۔ حکومت کے لیے ہم ہو سکتے ہیں کیڑے مکوڑے، لیکن ہم زندہ ہیں اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے قابل ہیں۔‘‘ یہ تبصرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’کاکروچ اِز بیک‘ ہینڈل سے پوسٹ کیا گیا ہے۔ یہ بیان اس احتجاجی مظاہرہ کی نمائندگی کر رہا ہے جو راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں نوجوان کر رہے ہیں، جس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ رکھا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آج صبح دہلی پولیس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کو جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد بڑی تعداد میں نوجوان جنتر منتر کی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پولیس دفتر کی طرف سے جاری خط کے مطابق ابھجیت دیپکے کی طرف سے دی گئی درخواست پر 6 جون 2026 کو صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک دھرنا و مظاہرہ کی منظوری دی گئی۔ یہ اجازت ایک بار کی خصوصی چھوٹ کے طور پر دی گئی ہے۔ پولیس نے کہا کہ مظاہرہ سپریم کورٹ کی ہدایات اور طے شدہ اصولوں کے تحت منقد کی جائے گی۔ دہلی پولیس سے مظاہرہ کی اجازت ملنے کے بعد ابھجیت دیپکے سیکورٹی انتظامات کے درمیان جنتر منتر پہنچے اور مظاہرہ میں شامل ہوئے۔ اس مظاہرہ میں کئی نوجوان کاکروچ بنا ہوا ماسک پہن کر ہاتھوں میں پھول لیے دکھائی دیے۔ اسکولی طلبا بھی بڑی تعداد میں اپنے سرپرستوں کے ساتھ جنتر منتر پہنچے، جن کے ہاتھوں میں ترنگا اور کتاب موجود تھا۔ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ ہاتھوں میں ایسے بینرس بھی لیے تھے جس پر دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگا گیا تھا۔
ابھجیت دیپکے نے اس مظاہرہ کو پُرامن اور ڈسپلن میں جاری رکھنے کی لوگوں سے اپیل کی اور کہا کہ کسی بھی طرح کے تشدد سے خود کو محفوظ رکھیں۔









