نئی دہلی یکم جون: سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سے منسلک تنازعہ کو لے کر کانگریس نے مرکزی حکومت کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ وزارت تعلیم کی لاپرواہی اور بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں طلبہ کو ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو راج دھرم نبھاتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سسٹم میں سائبر سیکورٹی سے متعلق خامیوں سے انکار کرنے کے بعد، اب سی بی ایس ای نے بالآخر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ سسٹم کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا تھا۔ لیکن اپنے کنٹریکٹر کوئیمپٹ کے خلاف وہ کیا کارروائی کرنے جا رہا ہے؟ کچھ خاص نہیں۔‘‘ جے رام رمیش نے روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی 2 تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارت تعلیم میں کوئیمپٹ سے فائدہ اٹھانے والوں کو پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ کوئیمپٹ اس کام کے لیے نااہل ثابت ہوگی۔
‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اگست 2025 کے اپنے آر ایف پی میں سی بی ایس ای نے ان وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا اختیار اپنے پاس محفوظ رکھا تھا، جو کام کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے میں ناکام رہتے۔ لیکن ستمبر میں سی بی ایس ای نے ایک کوریجنڈم جاری کر کے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا اپنا ہی اختیار ختم کر دیا۔‘‘