بھوپال، 27 مئی: ریاستی کانگریس ہیڈ کوارٹر میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی 62 ویں برسی کے موقع پر ایک تعزیتی اجلاس اور فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے نہرو کو ایک عہد ساز رہنما قرار دیتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر سخت حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک مٹی کا کلاکار مورتی تراشتا ہے، اسی طرح نہرو نے جدید ہندوستان کی تعمیر کی تھی۔ وہ ایک ایسے سیکولر اور سائنسی سوچ کے حامل ملک کے خواہاں تھے جہاں بچے تکنیکی مہارت حاصل کر کے دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ دگ وجے سنگھ نے موجودہ نظامِ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں توہم پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے، عام شہری پریشان ہے اور نظامِ حکومت انگریزوں کے دور جیسا جابرانہ ہو چکا ہے جہاں اختلافِ رائے رکھنے والوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنڈت نہرو فرقہ پرستی کے سخت خلاف تھے، چاہے وہ اقلیتی ہو یا اکثریتی، کیونکہ دونوں ہی ملک کے لیے یکساں طور پر خطرناک ہیں۔
تقریب کے اہم مقرر، معروف صحافی اور راجیہ سبھا ٹی وی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر راجیش بادل نے اس موقع پر اپنی تیار کردہ دستاویزی فلم ’’یوگ پورش نہرو‘‘ کی نمائش کی اور بتایا کہ کس طرح تقسیم کے وقت خون میں لت پت ہندوستان کو پنڈت نہرو نے امن اور بھائی چارے کے راستے پر گامزن کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نہرو کی سائنسی اور صنعتی کامیابیوں کو دیکھ کر پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا وہم بھی ٹوٹ گیا تھا اور انہوں نے اپنی موت سے قبل پاکستانی اخبار ’’فرنٹئیر پوسٹ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ وہ ہندوستان جا کر نہرو سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ جناح نے ممبئی (بمبئی) میں ہی دفن ہونے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا، اور اسی نظریاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کی حکومتوں نے انہیں قائدِ اعظم کے بجائے ’’کافرِ اعظم‘‘ کہنا شروع کر دیا تھا۔ راجیش بادل نے مزید کہا کہ انگریزوں کی لوٹ مار کی وجہ سے جب نہرو کو ملک ملا تو یہاں شدید غربت تھی اور اناج تک دستیاب نہیں تھا، لیکن انہوں نے ہر محاذ پر کام کر کے خود کفیل ہندوستان کی بنیاد رکھی۔
کانگریس کے وچار وبھاگ کے صدر بھوپیندر گپتا نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی پہلی حکومت کا کل بجٹ محض 197 کروڑ روپے تھا، جبکہ نہرو کے معاشی فلسفے کی بدولت آج ایک چھوٹی سی میونسپلٹی کا بجٹ بھی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب امریکہ نے اسٹیل پلانٹ لگانے میں مدد سے انکار کیا، تو نہرو نے روس کے تعاون سے اسٹیل پلانٹس قائم کیے اور ملک کو اسٹیل برآمد کرنے کے قابل بنایا۔ بھوپیندر گپتا نے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ نہرو اپنے فیصلوں پر قائم رہتے تھے، جبکہ آج ہم اپنی پسند کے ملک سے تیل خریدنے کی آزادی بھی کھو چکے ہیں۔ اس فکری نشست میں شیام بینیگل کی آئین کی تیاری پر مبنی 10 اقساط کی فلم اور راجیش بادل کی کتاب ڈیجیٹل لائبریری کو پیش کی گئی۔ پروگرام میں سابق وزیر پی سی شرما، معروف صحافی سدھیر سکسینہ، گووند گوئل، دیپ چند یادو، پروین سکسینہ، راجیو سنگھ، یوگیندر پرہار، ڈاکٹر دھاکڑ، کرن سہگل، ابھینو بارولیا اور پرنس سنگھ سمیت سینکڑوں کارکنان موجود تھے، جنہوں نے آخر میں پنڈت نہرو کو خاموش خراجِ عقیدت پیش کیا۔








