سرکاری اداروں میں اردو سے بدسلوکی تشویشناک:پروفیسرواسع
نئی دہلی :22؍اپریل (پریس ریلیز) معروف مفکر و دانشور پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے اردو زبان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس پر گہری فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے اتر پردیش اردو اکیڈمی کی تنظیم نو نہ ہونا ، کتابوں پر انعاموں کی تقسیم کاسلسلہ بند ہو جانا اور ارد و کی فلاح اور بقا سے متعلق دوسرے ایسے کاموں کا جو اردو اکیڈمی کی مینڈٹ میں شامل ہیں، پر عمل نہ ہونا بہت تشویش کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی طرح دہلی اردو اکیڈمی کی تنظیم نو نہ ہونااور دوسرے اردو کے پرگراموں میں اردو کا استعمال نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ کچھ ریاستوں میں اردو کے ساتھ یہ غیر منصفانہ سلوک اس کے مستقبل سے زیادہ سرکاروں کے خلاف اور ان کے غیر منصفانہ رویوں کی تشہیر کا سامان بنتا ہے جو کہ کسی طرح سے بھی مناسب نہیں ہے۔
اسی طرح مدارس اسلامیہ کو جس طرح سب و شتم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اتراکھنڈ وغیرہ میں جس طرح اردو مدارس کو ختم کیا جا رہا ہے، اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ناقابل فہم ہے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ اسلامی مدارس کے خلاف سرکاروں کی گھیرا بندی کے خلاف عدالتوں کا نوٹس لیا جانا اور سرکاروں خاص طور سے یوپی کی سرکار کو نوٹس دیا جانا ہندوستانی سماج اور انسانیت کے خلاف کوئی صحت مند چیز نہیں ہے۔ جمہوری اقدار اور صحت مند معاشرے کی سرکاروں کا اردو اور اسلامی مدارس کے خلاف یہ رویہ نامناسب اور جمہوریت کے سراسر منافی ہے۔ اس لیے سرکار وں کو اپنے ان رویوں پر بند لگانا چاہیے اور فراخ دلی کے ساتھ جائز اور مناسب رویہ اپنانا چاہیے۔









