15؍ اپریل کو بابائے قوم مولانا علی حسین عاصم بہاری کے یومِ پیدائش کے موقع پر شہر کی معروف و معتبر تنظیم ’’بے نظیر انصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کے زیرِ اہتمام ایک مختصر مگر جامع پروگرام کا انعقاد آفس بے نظیر سوسائٹی، اُسیا ریزورٹ، کوئنس ہوم، احمد آباد پیلیس روڈ، کوہِ فضا میں کیا گیا۔پروگرام کا بنیادی مقصد بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے ساتھ ساتھ بابائے قوم دیش رتن مولانا علی حسین عاصم بہاری کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور ان کی قربانیوں، افکار اور خدمات کو نئی نسل تک پہنچانا تھا۔ اس موقع پر شہر کے دانشوران، ماہرینِ تعلیم اور میڈیا سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد موجود رہی۔پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے سوسائٹی کے صدر ریٹائرڈ آئی پی ایس و سابق ڈی جی ایم۔ڈبلیو۔انصاری نے اولاً بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور مولانا علی حسین عاصم بہاری کو خراج عقیدت پیش کی۔ نیز انہوں نے بابا صاحب کی جانب سے دیے گئے آئین، تعلیم اور سماجی مساوات کے پیغام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی تعلیمات ہماری رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ اسی تسلسل میں آج مسلمانوں کے امبیڈکر، عظیم مجاہدِ آزادی، دانشور اور پسماندہ طبقات کی مضبوط آواز مولانا علی حسین عاصم بہاری کے یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں بھی اسی طرح خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہئے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ جس طرح بابا صاحب امبیڈکر نے مظلوم، محروم اور دبے کچلے طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی، اسی طرح مولانا عاصم بہاری نے بھی پسماندہ سماج میں شعور بیدار کرنے، انہیں تعلیم کی طرف راغب کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔دونوں عظیم رہنماؤں کا بنیادی مقصد ذات پات کے ظالمانہ نظام کا خاتمہ اور ایک ایسے سماج کی تشکیل تھا جہاں ہر فرد کو برابری، عزت اور انصاف میسر ہو۔ انہوں نے اپنی زندگی اس جدوجہد کے لیے وقف کر دی کہ انسان کی پہچان اس کی ذات یا مذہب نہیں بلکہ اس کی صلاحیت اور کردار ہو۔ تاہم یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ آزادی کے تقریباً 79 برس گزر جانے کے باوجود آج بھی ملک کے کئی حصوں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز، سماجی ناانصافی اور استحصال جاری ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ ان عظیم رہنماؤں کے مشن کو سمجھیں اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کریں۔ ایم۔ڈبلیو۔انصاری نے کہا کہ آج وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم عہد کریں کہ ان عظیم شخصیات کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور سماج سے ذات پات، تفریق اور ناانصافی کو ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک کے مختلف اداروں اور شعبوں میں منووادی اور پونجی وادی ذہنیت رکھنے والے عناصر قابض ہیں، جو ملک کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’جس کی جتنی آبادی، اتنی اس کی حصہ داری‘‘ کا اصول دراصل سماجی انصاف اور جمہوری مساوات کا آئینہ دار ہے، مگر بدقسمتی سے یہ تصور صرف سیاسی نعروں اور تقاریر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عملی سطح پر دیکھا جائے تو ملک کے اہم اداروں، انتظامیہ، عدلیہ اور تعلیمی شعبوں میں پسماندہ طبقات کی نمائندگی نہایت کمزور ہے۔ اس عدم توازن کے باعث نہ صرف ان طبقات کی آواز دب جاتی ہے بلکہ ان کے مسائل بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اصول کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تاکہ ہر طبقے کو اس کا جائز حق مل سکے اور حقیقی معنوں میں ایک جمہوری اور مساوی معاشرہ قائم ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مختلف قوانین جیسے این آر سی (NRC)، سی اے اے (CAA)،ایس آئی آر(SIR)، یو اے پی اے (UAPA)، کاؤ پروٹیکشن ایکٹ (Cow Protection Act)اور کنورژن ایکٹ (Conversion Act) کے ذریعے دلتوں، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 341 (1950 کے صدارتی حکم) کو ختم کرنے کے لیے ملک گیر تحریک چلائی جانی چاہیے۔
اس موقع پر پروگرام میں موجود دیگر دانشوران نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور جمہوری ادارے کمزور کیے جا رہے ہیں۔ تشویش ظاہر کی کہ عدلیہ، جو انصاف کی آخری امید سمجھی جاتی ہے، وہاں سے بھی عوام کو مکمل انصاف نہیں مل پا رہا۔پروگرام میں مطالبات کئے گئے کہ پسماندہ طبقات کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم میں خصوصی کوٹہ، اسکالرشپ اور معیاری کوچنگ کا انتظام کیا جائے۔ سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں مناسب نمائندگی دی جائے اور ریزرویشن کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔ سیاسی میدان میں بھی اس طبقے کو بھرپور موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی آواز خود بلند کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک آزاد ’’پسماندہ کمیشن‘‘ کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پروگرام میں موجود تمام مہمانان و سینئر صحافیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عاصم بہاری کی خدمات کے اعتراف میں تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور اسکالرشپ اسکیموں کو ان کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے کارناموں سے واقف ہو سکیں۔ نیز آئندہ انتخابات کے حوالے سے عوام کو ہوشیار رہنا ہوگا اور ایسے عناصر کو پارلیمنٹ میں جانے سے روکنا ہوگا جو آئین کے خلاف ہیں۔
، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ جھوٹے، مکار اور نااہل افراد کو اقتدار سے دور رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پروگرام کے اختتام پر یہ عہد لیا گیا کہ ہر سال 14 اور 15 اپریل کے موقع پر تمام دبے کچلے طبقات بابا صاحب کے آئین کے تحفظ اور ملک کی سالمیت کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کریں گے۔
آخر میں ایم۔ ڈبلیو۔انصاری نے کہا کہ مولانا عاصم بہاری کی علمی خدمات، سماجی شعور اور حب الوطنی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی زندگی ہر طبقے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ دیش رتن علی حسین عاصم بہاری کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے سماج میں برابری، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں گے۔









