آسام 9اپریل:آسام میں جمعرات کو 126 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے انجام پا گیا۔ اس دوران 2 مقامات پر تشدد کے سنگین واقعات پیش آئے۔ اس معاملہ میں پولیس افسران نے 7 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق صبح 7 بجے تیزی سے ووٹنگ شروع ہوئی اور کئی پولنگ مراکز پر معمولی جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔ ان جھڑپوں میں کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آئیں، حالانکہ بعد میں حالات پر قابو پا لیا گیا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اکھلیش کمار سنگھ نے بتایا کہ اسمبلی انتخاب کے لیے صبح 7 بجے پولنگ شروع ہونے سے کچھ گھنٹے قبل بدھ کی رات کو تامُل پور اور شیوساگر میں تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں کل رات تامُل پور میں 2 گروپ کے درمیان جھڑپ کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس فوری طور پر موقع پہنچی اور بھیڑ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ جب بھیڑ بے قابو ہو گئی تو اسے منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولی چلائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ موقع سے 4 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی جی نے بتایا کہ ایک دیگر واقعہ میں شیوساگر میں ایک سیاسی پارٹی کے 2 سے 3 اراکین پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وہاں سے 3 لوگوں کو حراست میں لیا اور اس کی تحقیقات جاری ہے۔ شیوساگر سیٹ سے دوبارہ انتخاب لڑ رہے اکھل گوگوئی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کے پیچھے بی جے پی کے امیدوار کُشل ڈوواری کا ہاتھ تھا۔ سوشل میڈیا پر سلسلے وار پوسٹ میں گوگوئی نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 2 لوگ زخمی ہوئے اور ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا۔ بوڈولینڈ پردیشک پریشد (بی ٹی سی) کے چیف ایگزیکٹو ممبر ہاگراما موہیلاری نے کہا کہ تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی تامُل پور میں ہوئی جھڑپ کی اصل وجہ پتا چلے گی۔









